اصحاب احمد (جلد 8) — Page 6
بیعت بھی کی تھی۔ان ایام میں حضرت اقدس خدام کی معیت میں کھانا تناول فرمایا کرتے تھے۔چنا نچہ آپ کو بھی حضور کی معیت میں کھانا کھانے بلکہ حضور کا پس خوردہ کھانا نصیب ہوا۔ایک دفعہ جب آپ زیارت کے لئے قادیان حاضر ہوئے تو آپ کے پاس رقم نذرانہ کے لئے نہ تھی۔آپ نے دو آنہ کے پتاشے خرید کر حضور کی خدمت اقدس میں پیش کر دیئے اور حضور نے بڑی مسرت سے قبول فرمائے اور اندرون خانہ بھجوا دئیے۔جن ایام میں حضرت اقدس بڑے باغ میں ۲۶-۱۱-۵۹ ) ( بیان اول ) ۱۳۱۱ھ میں رمضان میں گرہن پر لوگوں میں ظہور مہدی کا چرچا ہونے لگا۔والد صاحب اس طرف متوجہ ہوئے۔گاؤں میں رہنے کی وجہ سے جہاں ڈاک بھی ہفتہ میں ایک بار پہنچتی تھی۔آپ کو اس سے پہلے علم نہیں ہوا۔بٹالہ کے پیر صاحب نے ایک دفعہ آپ کو بتایا کہ کوئی غوث اعظم مقرر ہوا ہے۔جب پوچھا کون تو خاموش رہے۔بٹالہ ہی سے والد صاحب کو قادیان کا پتہ لگا۔( پیر صاحب بٹالہ بھی اپنے آپ کو اس صدی کا غوث بنے کا امیدوار سمجھتے تھے۔انہوں نے والد صاحب سے کہا کہ قادیان میں ایک دنیا دار خاندان کے ایک فرد نے دعوی کیا ہے۔والد صاحب کو چونکہ اہلِ اللہ کی ٹوہ رہتی تھی۔اس لئے باہر نکل کر اڈہ سے پوچھ کر کہ قادیان کدھر ہے قادیان پہنچے۔بیان دوم ) آپ چپ چاپ قادیان یہ غالباً ۱۸۹۴ ء تھا۔حضور نے رسالہ شھادۃ القرآن دیا۔بیعت کر کے ۱۸۹۵ء میں نور القرآن ساتھ لائے ( پہلی زیارت کے موقع پر غالبًا رسالہ نور القرآن ملا۔اور جلد ہی بعد رویائے صالحہ کی بنا پر ۱۸۹۵ء کے آخر پر دستی بیعت کی۔بیان دوم ) ایک احمدی پیادہ نے تبلیغی رنگ میں حضرت اقدس کی ایک کتاب دی تھی۔( بیان دوم ) ۱۸۹۷ء میں ہم دونوں بھائیوں وغیرہ نے بیعت کی۔مولوی راجیکی صاحب نے خلیفہ نور الدین صاحب کی شائع کردہ در مشین میرے میز سے لے کر پڑھی اور بہت متاثر ہوئے۔والد صاحب انہیں بذریعہ دعا انکشاف مرتبہ امام مہدی کے لئے کہتے رہتے تھے۔چنانچه مولوی راجیکی صاحب نے بیعت کا خط میری یاد کے مطابق ۱۸۹۹ء میں لکھا۔اس کے بعد والد صاحب جب قادیان گئے تو مولوی راجیکی صاحب کو بھی ساتھ لے گئے۔والد صاحب اس