اصحاب احمد (جلد 7) — Page 13
13 میں جا کر اور گنگا جی کا اشنان کر کے دو چار روز کے اندر اپنے بھائی بندوں میں مل کر بیٹھ سکتے ہو تم نے مسلمان بن کر کیا لیا ہے۔میں نے کہا کہ میں تو پہلے ہی سے اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا چاہتا ہوں یہ تو صرف آپ لوگوں کی طرف سے توقف اور دیر ہے یا میرے بھائیوں کی غلطی اور ستی ہے کہ وہ اس امر کے لئے تیار نہیں۔پنڈت جی نے کہا نہیں مہاراج ! میں ابھی باہم صلح اور رضا مندی کرا دیتا ہوں۔آپ تسلی رکھیں۔میری اس نرمی پر پنڈت صاحب اور تمام رشتہ داروں کو بہت ہی امید بندھ گئی اور ہر دوار جانے کی تیاریاں کرنے لگ پڑے۔جب خاکسار نے پنڈت جی سے کہا کہ مجھے پہلے بتلا دیا جاوے کہ جو کچھ ہر دوار میں جا کر مجھ سے کرانا ہے وہ مجھے یہیں بتلا دو تو پنڈت جی نے بعض فضول اور بے ہودہ اور بے سروپا رسومات کا نام لیا اور بعض نے کہا کہ گو موتر اور گو بر بھی کھلایا پلایا جاوے۔میں نے ادب سے عرض کی کہ پنڈت جی مہاراج! ان رسومات کی ادائیگی سے میری روح اور چال چلن پر کیا اثر پڑے گا۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ مجھے کوئی روحانی یا جسمانی فائدہ ان رسموں کے ادا کرنے سے مترتب ہو سکے ، ہاں اگر در حقیقت اس میں خیر و برکت ہے تو چند روز آپ میرے سامنے مثلاً آپ گوموتر پی کر دکھائیے۔اگر آپ کے چہرہ میں کچھ مزید رونق اور تر و تازگی نمودار ہوئی یا کوئی اور باطنی فائدہ محسوس ہوا تو مجھے ہر دوار جانے میں کوئی عذر نہیں۔لیکن اگر پیشاب سے آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو کر کر یہ المنظر ہو گیا تو میں ایسے کام کو کرنے سے معذور ہوں۔ہاں اگر اس میں خیر و خوبی ہے تو آپ کو اس کام کے کرنے سے لیت و لعل نہیں کرنی چاہیے۔مگر افسوس کہ پنڈت جی نے اس کارخیر کے کرنے سے صاف انکار کر دیا۔میں نے کہا کہ جب آپ گندگی اور نجاست سے بھاگتے ہیں تو میں اس کو دیانتداری اور نیک نیتی نہیں سمجھتا کہ جس کام سے آپ کوسوں بھاگتے ہیں مجھے اس کے کرنے پر مجبور کرتے ہیں مجھے اس میں سے شرارت کی بدبو آتی ہے۔مجھے آپ معاف رکھیں کیا کبھی باوانا نک صاحب نے بھی ایسے فعل کا ارتکاب کیا ہے؟ حالانکہ وہ ایسے پکے مسلمان تھے کہ مدت العمر مسلمان بزرگوں کی صحبت میں رہے اور سالہا سال اسلامی ممالک میں عمر بسر کی اور مکہ معظمہ کا حج بھی ادا کیا اور حیات محمد خاں کی لڑکی سے انہوں نے نکاح کیا ( دیکھو سکھاں دے راجدی و تھیا صفحہ ۳ تا ۱۰) اور آج تک بخارا و خیوہ واقع ترکستان میں ان کو کروڑوں آدمی با وانا تک ہندی کہتے ہیں اور صالح اور پرہیز گار مسلمان یقین کرتے ہیں اور انہیں باوا ننو بھی کہتے ہیں۔بھلا کبھی باوانا تک صاحب نے اسلامی ملکوں سے واپس آکر آپ جیسے پنڈتوں کے کہنے پر عمل کیا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو روضہ خواجہ عبدالشکور سلمہ علیہ الرحمۃ پر سرسہ میں دیر تک چلہ کش رہے جہاں اب تک صد ہا سکھ جاتے ہیں اور اس مکان کو متھا ٹیکتے ہیں اور نذرونیاز چڑھاتے ہیں۔پس پنڈت جی ! میں نے کوئی نیا مذ ہب اختیار نہیں کیا بلکه با وانا نک صاحب کا مذہب اختیار کیا ہے جس کو میرے بھائی بند اور دیگر رشتہ دار فراموش کر بیٹھے ہیں۔میں تو چاہتا ہوں کہ میں اپنے بھائی بندوں سے مل بیٹھوں لیکن میں کیا کروں میرے خویش و اقربا ان باتوں سے نفرت اور