اصحاب احمد (جلد 7) — Page 12
12 رہائش سے مطلق اطلاع نہ تھی۔مگر وہ بے چاری مامتا کی ماری ہر روز مدرسہ میں جاتی اور زار زار روتی (5) چنانچہ ماسٹر صاحب نے خطوط کے ذریعے اپنی خیریت کی اطلاع دی جس سے خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور پھر جلد بعد آپ نے والدین واقارب سے ملاقات کی اس اولین ملاقات کی تفصیل دوسری جگہ درج ہے۔البتہ یہاں دوسری ملاقات کی تفصیل دی جاتی ہے۔دوسری ملاقات : دوسری ملاقات کے متعلق آپ لکھتے ہیں ☆ ” جب میں دوسری مرتبہ اپنے والدین اور دوسرے خویش و اقربا کو ملنے کی غرض سے گھر آیا تو گھر والوں کی حالت نفرت کی طرف مائل دیکھی اور ہر ایک یہی چاہتا تھا کہ جس طرح ممکن ہو سکے اس کو دوبارہ شدھ کرنے کی کوشش کی جاوے۔چنانچہ بہت کچھ طمع دی گئی اور پنڈت وغیرہ بھی سمجھانے بجھانے کی غرض سے بلائے گئے تھے۔چنانچہ ایک پنڈت صاحب نہایت نرمی اور محبت سے یوں سمجھانے لگے کہ ابھی تمہارا کچھ نقصان نہیں ہوا۔تم ہر دوار (بقیہ حاشیہ ) مصنف کے سوا ہر ایک شخص تالیف و طباعت کو ایک ہی وقت کا کام سمجھتا ہے۔سو قادیان کی آمد اور بیعت کی تعین فتح اسلام کے آغاز طباعت کی تعین سے ہوسکتی ہے۔اس کا آغاز ۲۰ دسمبر ۱۸۹۰ ء سے قبل ہو چکا ہوگا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود ۱۸۹۰۔۱۲۔۲ کو حضرت مولوی نورالدین صاحب کو تحریر فرماتے ہیں۔،، وسکتاب فتح اسلام کسی قدر بڑھائی گئی ہے اور مطبع امرتسر میں چھپ رہی ہے۔(6) اور ۱۸۹۰۔۱۲۔۲۹ کو حضرت مولوی عبداللہ صاحب سنوری کو تحریر فرماتے ہیں؟ ایک جدید رسالہ بنام فتح اسلام تیار ہوا ہے اور مطبع میں زیر طبع ہے، (7) گویا ماسٹر صاحب کی پہلی بار قادیان میں آمد ۲۰ دسمبر ۱۸۹۰ء کے لگ بھگ ہوگی یعنی اواخر نومبر یا آغاز دسمبر ۱۸۹۰ء میں جب کہ حضور فتح اسلام کی پہلی کاپی کے پروف دیکھ رہے تھے۔پہلی ملاقات کے زمانہ کی پوری تعیین نہیں ہوسکی خاکسار کے نزدیک وہ ۱۸۹۰ء میں ہوئی تھی اس لئے کہ قادیان اس سال آنے سے قلیل عرصہ قبل آپ کے قصبے کے ایک پر وہت نے آپ کو پہچان لیا تھا جس کے بعد دوسری دفعہ آپ دہلی چلے گئے اور وہاں سے جالندھر ہو کر آپ قادیان آپہنچے اور بیعت کی۔البتہ دوسری ملاقات ۱۸۹۶ء میں ہوئی۔کیوں کہ اس کی تفصیل میں باوا نا تک صاحب کے مسلمان ہونے اور ان کے چولے کا ذکر ہے۔اور یہ کہ چولے کے متعلق ایک سال ہوا شور برپا ہوا تھا۔اس میں حضرت اقدس کے ۳۰ دسمبر ۱۸۹۵ء کو چولہ صاحب دیکھنے اور بعد ازاں اس کے متعلق اعلان کرنے کی طرف اشارہ ہے۔گویا دوسری ملاقات پہلی ملاقات کے چھ سال بعد ہوئی۔