اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 14 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 14

14 انکار کرتے ہیں جن کے باوانا نک صاحب عاشق زار تھے۔وہ مدت العمر نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ اور دیگر شعائر اسلام کے پورے پابند اور پکے مسلمان تھے۔لیکن اس زمانہ میں سکھوں نے اُن سے منہ پھیر لیا ہے۔اتنے میں ایک سردار صاحب بولے کہ بھائی اب بہت کچھ کہا گیا ہے۔اب بس کرو۔میرا دل بھی نرم ہوتا جاتا ہے۔ایسا نہ ہو کہ مجھے بھی مسلمان ہو کر اپنے بال بچوں سے الگ ہونا پڑے۔میں نے کہا کہ یہ حق اور راستی ہے، اس کا ضرور اثر ہوگا اگر تم حق کو قبول نہ کرو گے تو ضرور ایک دن تمہاری اولا د اسلام قبول کرے گی اور دیوی دیوتاؤں کو ترک کرے گی اور ہندوؤں کی صدہا مشرکانہ رسومات جو تم لوگوں نے ہندوؤں سے سیکھ لی ہیں سب کو ترک کر دیں گی۔مگر بد قسمت ہے وہ قوم جو جس غرض کے لئے دنیا میں آئی چند روزہ زندگی سے پیار کر کے اس کو اور پر میشر کو بھلا دیا اور نہ خود صراط مستقیم اختیار کیا اور نہ اپنی اولاد اور بے خبر عورتوں کو حق قبول کرنے دیا اور اپنے مذہب کے بانی مبانی باوانا تک کی تعلیم سے بر ملا انکار کیا۔سردار صاحب۔بے شک جو کچھ آپ نے فرمایا وہ حق ہے۔یعنی با وا صاحب اکثر مسلمانوں کے ملکوں میں سیر وسیاحت کرتے رہے اور مکہ معظمہ میں بھی گئے تھے اور اکثر مسلمان فقیر اور بزرگان دین کی صحبت میں فیضیاب ہوتے رہے تھے۔مگر ہم کیا کریں گورو گوبند سنگھ صاحب بھی تو قابل اطاعت اور فرماں برداری ہیں۔انہوں نے کیس سر پر رکھنے کا حکم دیا اور خالصہ مذہب کی بنیاد ڈالی۔مگر حق یہی ہے کہ ہمارے مذہب کے بانی مبانی تو در حقیقت با واصاحب ہی ہیں۔لیکن گورو گوبند سنگھ صاحب نے ہماری قوم کو مسلمانوں کے ہاتھوں سے بچایا ہے اس لئے ضرور ہے کہ ان کا نام بھی جبیں اور ان کی تعظیم بھی کریں۔بتایا گیا ہے کہ گورو گوبند صاحب نے سکھوں کو باواجی کا راستہ چھڑا کر غلط راستے پر لگا دیا۔صحیح راستہ وہی ہے جس کا چولہ صاحب کے اوپر ذکر موجود ہے۔اسلام سے دور کرنا ظلم ہے۔سردار صاحب نے اس کا اقرار کرتے ہوئے کہا کہ آپ خوب جانتے ہیں کہ اگر ہم مسلمان ہو جائیں تو ہمیں پھر اپنے خویش و اقربا میں رہنا محال ہو جاوے گا اور کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہیں گے۔خلاصہ ) خاکسار۔سردار صاحب! جس صورت میں آپ کو بخوبی معلوم ہے کہ حضرت باوا نانک صاحب اپنی طرز زندگی اور آخری وصیت سے جو متواتر چار سو سال سے آپ لوگوں کے ہی پاس رہی اپنے تئیں مسلمان ثابت کر گئے ہیں تو پھر سخت نادانی اور بے وقوفی ہوگی کہ لوگوں کے ڈر سے پرمیشر اور باوانانک کے احکام کو رڈ کیا جاوے۔کیا پر میشر اور با واصاحب سے بہت ڈرنا چاہیے یا لوگوں سے؟ ایک اور سردار صاحب نے کہا کہ چولہ صاحب میں کچھ اور لکھا ہو گا تم یوں ہی ہم کو دھوکا دے رہے ہو، اس پر پہلے سردار صاحب نے کہا کہ نہیں بھائی ! سال گذشتہ میں جو چولا صاحب کے بارے میں بہت شور برپا ہوا