اصحاب احمد (جلد 7) — Page 167
167 پاکستان آنے کے بعد ابتداء میں جب کہ دفتر بیت المال میں (جس میں قادیان ہی میں دار الصناعۃ کے ختم ہو جانے کے بعد کام کرنا شروع کیا تھا) کام کی مقدار زیادہ نہ تھی یہ محسوس کیا کہ بغیر کام کرنے کے صدر انجمن احمدیہ سے تنخواہ لینا دیانتداری نہیں ہے فراغت کی اجازت حاصل کرلی اور سرگودہا میں ملازمت کے خیال سے آگئے۔اور دو چار دن میں ہی پھر سابقہ دفتر میں جس میں ان کے وہ افسرا بھی موجود تھے جن کے ماتحت کام کا موقع پہلے مل چکا تھا۔انہوں نے آپ کو بہت ہی خندہ پیشانی سے فوراہی کام پر لگا لیا اور جب ربوہ میں کام باقاعدہ شروع ہوا۔تو ربوہ میں خدمت کے لئے آپ نے اپنے تئیں پیش کر دیا آپ کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک درخواست دعا درج کی جاتی ہے اس سے آپ کی خدمت سلسلہ کے متعلق قلبی کیفیت کا اظہار ہوتا ہے۔بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم بحضور سید نا واما منا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔نہایت ادب و انکسار سے یہ عاجز عرض گزار ہے کہ یہ خادم اب اپنی عمر کے آخری ایام میں پہنچ چکا ہے۔لیکن یہ خدا کا شکر ہے کہ جہاں اعضاء وقویٰ میں کمزوری پیدا ہوگئی ہے وہاں خدمتِ سلسلہ کا شوق کم نہیں ہوا بلکہ عمر کے ان آخری لمحات میں گذشتہ کوتاہیوں کی تلافی کرنے کا خیال معاش کی نسبت معاد کے فکر میں زیادہ مبتلا کرتارہتا ہے۔از راہ کرم خاص دعا فرمائی جاوے کہ اللہ تعالی خاتمہ بالخیر فرمائے اور جس طرح اس نے آج سے پچاس سال قبل اپنے مامور اور مرسل کی تصدیق کی توفیق عطا فرمائی تھی اسی طرح عاقبت میں بھی اپنے ان پیاروں کی معیت کی توفیق عطا فرمائے اور میری اولاد کو بھی ہر ایک غلطی اور کمزوری سے محفوظ رکھ کر صراط مستقیم پر ثابت قدم رکھے اور بیش از پیش دینی خدمات سرانجام دینے اور ہر ایک امتحان میں کامیاب کر کے آگے ہی آگے قدم بڑھانے کی توفیق عطا فرما دے۔اور سلسلہ کا وفادار خادم بناوے کیونکہ میں نے ان کو پیدائش سے ہی سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کیا ہوا ہے۔دیتے رہے۔این است کام دل اگر آید میسرم عریضہ ، نیاز خاکسار محمد عبد اللہ عفی اللہ عنہ (بوتالوی ) مہاجر قا دیان حال مقیم ربوه ۲۶/۱/۵۲ چنانچہ ۱۹۵۲ء میں ہی آپ ربوہ واپس آگئے اور بطور سٹور کیپر اپنے فرائض کو نہایت محنت سے سرانجام