اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 85 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 85

85 امرتسر میں ہی بیٹھے بٹھائے فیصلہ ہو سکتا تھا اور کسی کو ایسے فیصلے میں انگشت نمائی کی گنجائش بھی نہ رہتی۔اور وہ راہ فیصلہ کی یہ ہے کہ جو مولوی غلام دستگیر قصوری نے اختیار کی۔پس آپ مولوی غلام دستگیر کی طرح چند سطور اشتہار میں وہی دعا شائع کر دیتے جولیکھر ام اور اسی طرح مولوی محی الدین اور چند مخالفوں نے شائع کی اور اس کا نتیجہ اسی جہان میں دیکھ لیا اور آپ بھی خدا تعالیٰ کے فیصلے کا انتظار ( کرتے ) اور اس کے نتیجہ کا انجام دیکھتے یا قبولیت دعا اور قرآنی حقائق و معارف میں مقابلہ کرتے جو صلحاء اور اولیاء اللہ کی شناخت کا معیار ہے تا کہ دینی علم اور قرآن کے حقائق و معارف کا موازنہ ہو جاتا اور قبولیت دعا اور تائید الہی جو صرف راست باز فریق کے شامل حال ہوا کرتی ہے حق و باطل میں صاف فیصلہ کر دیتی۔پس جب میں نے مولوی صاحب کو مولوی غلام دستگیر صاحب وغیرہ کے فیصلے اور دعا کی طرف توجہ دلائی (تو) مولوی صاحب ایسے خاموش اور گم ہوئے کہ گویا آپ قادیان یا دنیا ہی میں نہیں آئے۔بعد ازاں میں نے تمام حاضرین جلسہ کی خدمت میں عرض کی کہ آپ سب صاحب فرمائیں کہ اب میں کس شخص کو ملعون اور کا ذب سمجھوں اور کس کو مقبول اور محبوب الہی قرار دوں کیونکہ ایک طرف تو مرزا صاحب ہیں جن کی دعا ئیں صد ہا ہزار ہا لکھوکھا مقامات پر قبول ہو کر تیر بہدف ثابت ہوئیں اور اس وقت امرتسری مولوی صاحب آپ کے روبرو اس ربانی فیصلے کا نام سن کر چپ اور دم بخود رہ گئے ہیں اور دوسری طرف میں ایسے لوگوں کو پاتا ہوں کہ وہ زبانی مباحثات اور تو تو میں میں کا بہانے کر کے شور و غوغا کے نامعقول ذریعہ سے ناجائز فتح ونصرت کے خواہاں ہیں اگر کہا جاوے کہ تم بہر حال مرزا صاحب کی نسبت اپنے تئیں زیادہ نیک اور پاک طینت یقین کرتے ہو پھر قبولیت دعا اور تائید الہی میں مقابلہ کرنے سے کیوں گریز کی جاتی ہے۔بس اے حاضرین جلسہ آپ سب صاحب گواہ رہیں اگر خدانخواستہ بوجہ بیعت۔۔۔۔حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب۔۔۔۔۔مجھے حشر کے روز جہنم کی طرف لے جائیں تو میں امرتسری مولوی صاحب کا دامن پکڑ لوں گا۔ان کے گلے میں دوپٹہ ڈال کر دہائی دوں گا کہ الہ العلمین ! میرا کیا قصور ہے۔پہلے ان کو پکڑ کہ ان لوگوں نے خوب سمجھ لیا ہے کہ مرزا صاحب خدا کے مقبول و محبوب بندہ ہیں اور بوجہ مامور من اللہ ہونے کے ہر ایک میدان و مکان میں ان کی فتح ہوتی ہے اور ان کی دعائیں مقبول اور مستجاب ہوتی ہیں اور ان کے مخالفوں کے منہ کالے ہو جاتے ہیں مگر پھر بھی دیدہ دانستہ آسمانی فیصلے سے کترا کر بحث و مباحثہ میں پبلک کو دھوکا دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور لاکھوں کو گمراہ و بے دین کیا۔مرزا صاحب نے تو انجام آتھم میں لکھا تھا کہ اگر ہزار مخالف بھی مجھ سے مباہلہ کریں تو تمام ہلاکت و نامرادی کے گڑھے میں پڑیں گے۔اس کے بعد کیا ہر ایک کو حق پہنچتا ہے کہ ان کو کاذب سمجھے۔کیا ان کو خدا پر بھروسہ اور امید نہیں رہی؟ کیا مفتری ایسے زبر دست دعوے کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔حالانکہ مرزا صاحب کی عمر ستر سال کے قریب ہے اور مخالفین علی العموم جوان اور مضبوط اور توانا اور