اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 84 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 84

84 کچھ عرصہ بعد اڑھائی درجن افراد پر مشتمل جماعت بن گئی تھی۔مثلاً ماسٹر عبدالسبحان صاحب جو مقامی باشندہ ہیں۔ماسٹر غلام جیلانی صاحب ہیڈ ماسٹر ( یہ امرتسر کے تھے ٹریننگ لینے کے لئے لاہور ۴ سال کے لئے آئے تھے اور ان کی جگہ حضرت ماسٹر صاحب کا تقرر ہوا تھا ) اور ڈاکٹر محمد خاں صاحب مع خاندان ڈاکٹر صاحب مدراس کے باشندے تھے۔(۳) لنکا میں تبلیغ:- ایک دفعہ جب کہ سیدنا حضرت خلیفہ ایحا ضرت خلیفہ مسیح ایدہ اللہ تعلی بنصرہ العزیز کشمیرمیں قیام فرما تھے آپ نے حکم بھیجا کہ ماسٹر عبدالرحمن صاحب کو تبلیغ کے لئے لنکا بھیجا جائے چنانچہ تعمیل ارشاد میں آپ بمبئی اور مدراس سے ہوتے ہوئے لنکا پہنچے اور وہاں کولمبو کانڈی وغیرہ دور دور کے شہروں کے لیکچر ہالوں میں لیکچر دئے اور لارڈ بشپوں اور بدھوں کو چیلنج دیا گیا اور مباحثہ ہوا اخباروں میں ذکر آکر خوب تبلیغ ہوئی انداز النکا کے تہیں ہزار افراد کو تبلیغ ہوئی۔آپ غالباً ۱۹۲۰ ء اور ۱۹۲۱ء میں وہاں تشریف لے گئے تھے وہاں کے اخبارات دستیاب ہوئے ہیں جن میں آپ کے لیکچر انگریزی میں ہونے کے متعلق اعلان اور مبسوط مضامین اسلام عیسائیت اور بدھ ازم اور حیات بعد الموت کے متعلق درج ہیں۔یہ مضامین امید ہے کتابی شکل میں طبع ہو جائیں گے۔(۴) مولوی ثناء اللہ صاحب سے گفتگو : مولوی صاحب مولوی فاضل تھے اور مباحثات میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔اعجاز احمدی میں حضرت اقدس نے انہیں تحقیق حق کی دعوت دی تھی لیکن وہ جنوری ۱۹۰۳ء میں بحث کے ارادے سے آئے اس موقعہ پر ماسٹر صاحب نے بھی ان سے گفتگو کی۔سوال وجواب سے ظاہر ہوتا ہے کہ مولوی صاحب آپ کے سوالات سے تنگ پڑ گئے اور براہ راست جواب دینے سے کتراتے تھے۔ماسٹر صاحب تحریر کرتے ہیں کہ : دو برس کا عرصہ ہوا کہ ایک۔۔۔امرتسری مولوی صاحب قادیان آئے تھے اور کہتے تھے کہ میں حق و باطل میں فیصلہ کرنے کی غرض سے آیا ہوں میں نے عرض کی کہ آپ کس طرح حق و باطل میں مرزا صاحب سے فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔“ مولوی صاحب! ہم جو کچھ کریں گے دیکھ لینا۔خاکسار ! آپ کو حق و باطل میں جو فیصلہ کرنا یا کرانا ہے مہربانی سے ہمیں بھی کچھ بتلا دیں۔ورنہ میں ایک آسان تر فیصلہ کی اقرب راہ پیش کرتا ہوں۔مولوی صاحب! آپ ہی کہیں۔خاکسار۔مولانا ! آپ کو حق و باطل میں تصفیہ کے لئے قادیان آنے کی چنداں ضرورت نہ تھی وہیں