اصحاب احمد (جلد 7)

by Other Authors

Page 86 of 246

اصحاب احمد (جلد 7) — Page 86

86 عمدہ صحت کے ہیں۔مولوی صاحب دھیمی اور دبی آواز سے بولے کہ امرتسر میں تین روز ہمارے پاس ٹھہریں تو ساری بات سمجھا دیں گے۔خاکسار۔کیا یہ مسنون طریق ہے کہ اکیلے اور تنہا کو تبلیغ کی جاوے یا کوئی راز کی بات ہے۔آنحضرت یہ تو علی الاعلان اور گلی کوچوں بازاروں میں بھی تبلیغ کیا کرتے تھے۔آپ براہ مہربانی یہیں سمجھا دیں باقی پھر دیکھا جاوے گا۔مولوی صاحب ! تم آنحضرت ﷺ کا نام کیوں لیتے ہو؟ خاکسار! اسوۂ حسنہ کے طور پر ان کا نام نہ پیش کروں تو کیا کم بخت فرعون کا نام لوں اور اس کا طریق بد پیش کروں؟ بہتر ہے کہ آپ حاضرین کو بھی فائدہ پہنچا وہیں۔مگر مولوی صاحب کی نیت بخیر نہ تھی اور (وہ) اسی طرح ٹال مٹول کرتے رہے۔لیکن میں ایسی باتوں پر کب اطمینان حاصل کر سکتا تھا۔پھر میں نے عرض کیا کہ مولوی صاحب ! دیکھو! میں نے اپنے خویش واعزہ واقر با سے صرف حق کی خاطر علیحدگی اختیار کی ہے اور بہت کچھ نقصان اٹھایا۔آپ اللہ مجھ پر رحم کریں۔آپ مولوی غلام دستگیر کی طرح چند سطور لکھ کر شائع کر دیں یا آنحضرت علی کی طرح مباہلہ کریں جیسا کہ ابو جہل نے جنگِ بدر میں کیا تھا اور اس کی بددعا غلام دستگیر کی طرح اسی پر الٹ پڑی تھی۔مولوی صاحب! جھنجھلا کر! اجی تم پھر آنحضرت کا نام لیتے ہو۔خاکسار ! آپ فرمائیے کہ نمرود و ہامان کا نام لوں اور ان کا طریق پیش کروں؟ آپ آنحضرت علی کے نام سے کیوں دق ہوتے ہیں۔مولوی صاحب! اس میں کیا ستر ہے؟ جس صورت میں ابو جہل صادق کی بددعا اور مباہلہ سے داخل جہنم ہوگیا ، اسی طرح اب بھی جھوٹا اور کاذب اپنی پاداش کو پہنچ جاوے گا۔آپ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کریں وہ اندھا دھند فیصلہ نہیں کرتا۔اگر دراصل کچھ دال میں کالا ہے یا کوئی اندرونی میل مقابلہ کے لئے جرات نہیں دکھلا تا تب بھی بر ملا اس سے پبلک کو اطلاع دیں خواہ مخواہ فتنہ پردازی سے پبلک کو دھوکا نہ دیں۔(۵) ایک آریہ سے بحث:۔ایک آریہ سے بحث کے متعلق آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : (76) ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آریوں کے مجمع میں ایک طوطا چشم پنڈت نے مجھ پر یہ سوال کیا تھا کہ تم خدا کو قادر مطلق مانتے ہو۔۔۔کیا وہ اپنا شریک یا بھائی بہن پیدا کر سکتا ہے یا فلاں فعل کا ارتکاب کر سکتا ہے مجھے اس کے چہرہ سے معلوم ہو گیا کہ اس کا ارادہ بد ہے اور مجھے اس مجمع میں ذلیل کرنا چاہتا ہے تو میں نے چاہا کہ ایسا صاف اور