اصحاب احمد (جلد 7) — Page 169
169 باتوں کو حل کرنے کا شوق بچپن سے ہی تھا چنانچہ آپ کے گھر میں ایک کتاب طب کی قلمی تھی جو فارسی زبان میں تھی لیکن کسی کسی نسخے میں ہندی کی زبان سے ملتی جلتی کسی زبان میں کسی خاص دوائی کا نام لکھا ہوا تھا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب وہ آٹھویں جماعت میں قلعہ دیدار سنگھ ضلع گوجرانوالہ میں پڑھا کرتے تھے تو ان کے استاد کے پاس ایک کتاب اس غرض سے آئی کہ اس کا کچھ معاوضہ مل سکے۔یہ کتاب ایک شاہی حکیم کا بیاض تھا جسے وہ بہت عزیز رکھتا تھا، اس کی وفات کے بعد اس کی بیوی نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ ایک نہایت قیمتی کتاب ہے جس کی معقول قیمت مل سکے گی اس نے کئی حکیموں کو دکھایا۔لیکن اس زبان کے نہ پڑھ سکنے کی وجہ سے نسخہ نامکمل رہتا تھا اس لئے اس کا معاوضہ اس عورت کو کچھ نہ مل سکا۔لیکن یہ کتاب حل کرنے کی غرض سے استاد موصوف کے پاس بھی آئی۔چونکہ کتاب کی جلدی واپسی کا تقاضہ تھا اس لئے انہوں نے یہ تجویز کی کہ اپنے شاگردوں کو دے کر فوری طور پر اس کی نقل کر لیں چنانچہ آپ نے بھی اسے نقل کیا۔اس عرصہ میں ان کے استاد کا انتقال ہوگیا اور یہ نقل آپ کے پاس ہی رہی اسے آپ نے آخر حل کر ہی لیا۔ان کا ارادہ تھا کہ اس کا ترجمہ کر کے کسی طبی رسالہ میں قسط وار شائع کرایا جائے لیکن بوقت تقسیم ملک صرف ایک جلد گھر سے لائی جا سکے دوسری جلد نہ مل سکی اس واقعہ سے بھی آپ کے علمی شوق کا اندازہ ہوتا ہے۔مرکز سلسلہ سے محبت جلسہ سالانہ میں شمولیت: صحیح اور پوری دیانتدارانہ ملازمت سرکاری بجالانے اور ملا زمت کے بھی معمولی ہونے اور عیالداری کے باعث آپ تنگی سے گزارہ کرتے تھے لیکن باوجود اس کے آپ نہایت با قاعدگی سے جلسہ سالانہ پر مرکز سلسلہ کی محبت کے باعث شامل ہوتے اور سادے کاغذوں کی کاپی تیار کر کے ساتھ لاتے تھے اور جملہ تقاریر کے با قاعدہ نوٹ لیتے تھے اور واپس جا کر احباب جماعت کو بھی ان تقاریر کے مضامین سے آگاہ کرتے تھے اور نوٹ لینے میں اس قدر مشق ہو گئی تھی کہ آپ کا شکستہ خط بھی نہایت صاف ہوتا تھا چنانچہ آپ نے قادیان میں ان سب کا پیوں کو نہایت حفاظت سے رکھا ہوا تھا اور وقتاً فوقتاً آپ ان کو دیکھ کر یا دتازہ کرتے تھے جب فونٹین پن کا رواج نہ تھا تو اودی پنسل سے لکھا کرتے تھے جب پین کا رواج ہوا تو ابتداء سے ہی قلم سے نوٹ لکھا کرتے تھے تا کہ دوبارہ محنت نہ کرنی پڑے۔۱۹۱۳ء میں وصیت کی تھی۔وصیت کا نمبر ۶۵۶ تھا اور آپ کی اہلیہ صاحبہ کا وصیت نمبر ۶۵۷ تھا چنا نچہ اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت ہے باوجود یکہ مکرم مولوی صاحب اور ان کی اہلیہ مکرمہ کی وفات میں تقریباً پونے دو سال کا