اصحاب احمد (جلد 6) — Page 31
31 تھا۔اور کئی گاؤں کے لوگ آپ کے ذریعہ سلسلہ عالیہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے ۱۹۰۲ء میں جب آپ ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے اور میں قادیان میں زیر تعلیم تھا۔تو موسم گرما کی تعطیلات میں آپ مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔اور سارے ضلع میں پھر پھر کر اپنے قدیمی تعلقات والوں کو اقرباء کو مختلف گاؤں میں جا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعاوی اور صداقت کے دلائل اچھی طرح سے واضح کرتے تھے۔مہا راجکے۔دھیر نگے۔درویش کے۔کلا سکے۔دینگے۔نت۔بوتالہ۔کوٹ قاضی۔گوجرانوالہ۔سب جگہ جانا مجھے یاد ہے۔جنڈیالہ میں اپنے بھانجے قاضی ظفر الدین ( پروفیسر) سے خوب مقابلہ ہوا کرتا تھا۔اسے اپنے علم پر بڑا گھمنڈ تھا۔ضلع گوجرانوالہ کے ایک صحابی مکرم مولوی فضل الدین صاحب ( مبلغ حیدرآباددکن وغیرہ) آپ کی تبلیغ کی وسعت کا ذکر کرتے ہیں۔اور اس ضلع کے ایک اور صحابی مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتالوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ : ”ہمارے خاندان میں احمدیت کا بیج بونے والے بلکہ جہاں تک میرا خیال ہے سارے ضلع گوجرانوالہ میں احمدیت کے پودے لگانے والے یہی صاحب تھے۔۔۔۔۔۔۔( آپ ) اہل حدیث کا عقیدہ رکھتے تھے۔نواب صدیق حسن خاں صاحب بھوپالوی کی تصنیفات کا ان کے ہاں کافی ذخیرہ تھا۔۔۔۔۔۔۔” میرے والد صاحب مرحوم اس زمانہ کے علوم عربیہ مروجہ کے عالم تھے۔اور اہل حدیث کا عقیدہ رکھتے تھے۔چونکہ قاضی ضیاء الدین صاحب بھی اسی عقیدہ پر تھے۔اور وہ ہمارے رشتہ دار بھی تھے اور ان کا گاؤں کوٹ قاضی بھی ہمارے نزدیک یعنی صرف تین میل کے فاصلہ پر تھا۔اس لئے اکثر آتے جاتے رہتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات اور پیشگوئیاں اور الہامات وغیرہ سناتے رہتے۔۔۔۔۔۔چنانچہ والد صاحب جن کی وفات ۱۸۹۶ء میں ہوئی وفات مسیح کے قائل ہو چکے تھے۔اور عملاً سلسلہ احمدیہ کے کاموں میں حصہ لیتے تھے۔۔۔غرض یہ کہ ہمارے گھر میں احمدیت کی تصدیق و تائید کا قاضی صاحب کی آمد ورفت سے ایسا ماحول پیدا ہو گیا جس کا بچپن میں ہی میرے دل پر نہایت خوشگوار اثر تھا۔جو آخر کار کشاں کشاں مجھے ہدایت پر لے آیا۔(13) آپ کے علاوہ اس ضلع کے ۳۱۳ صحابہ میں شمار ہونے کا شرف رکھنے والے اکیس صحابہ میں سے گیارہ آپ ہی کے ذریعہ سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے۔ایسی سعادت شاید ہی کسی اور کے حصہ میں آئی ہو۔