اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 30 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 30

30 د می بینم که محمد حسین پیراہنے کلاں پوشیده است لاکن پاره پاره شده است۔پھر آپ ہی یہ تعبیر فرمائی کہ آن پیراہن علم است که پاره پارہ خواہد شد۔اور پارہ پارہ زبان سے کہتے تھے۔اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سینہ سے لیکر پنڈلیوں تک بار بار اشارہ کرتے تھے پھر عاجز کو فر مایا که آنرا باید گفت که تو به کرده باشد - چنانچہ حسب الوصیت میں نے آپ کو یہ حال سنایا تھا۔آپ نے عاجز کو چینیاں والی مسجد لاہور میں تمسخر آمیز الفاظ سے پیغام دیا تھا کہ ولی بنے جاتے ہیں۔عبد اللہ کو کہنا کہ مجھے بھی بلاوے۔اس پیغام کے بعد انہوں نے ملا سفر کے رو بروالہام مذکور فرمایا۔اور میں نے امرتسر میں بمکان حافظ محمد یوسف صاحب جہاں حافظ عبدالمنان رہتا تھا۔حرف بحرف آپ کو سنا دیا تھا۔مجھے خوب یاد ہے کہ اس وقت آپ متاثر ہو گئے تھے۔جس سے مطالعہ کتاب بھی چھوٹ گیا تھا۔میں نے انہی دنوں اپنے گاؤں کے لوگوں کو بھی سنا دیا تھا۔جو وہ اب گواہی دے سکتے ہیں غرض کہ یہ منذر الہام ان دنوں میں پورا ہوا۔جس کا اثر اب ظاہر ہوا کہ مرزا صاحب کے مقابل پر آپ کی ساری علمیت ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی۔اور علم کے لاف و گزاف بھی بیچ محض ثابت ہوئے۔لہذا یہ الہام بے شک سچا ہے۔مولوی صاحب ! میں نے وقت پر آپ کو دوبارہ یاد دلایا ہے۔آپ عبرت پکڑیں اور توبہ کریں۔اور اس مصلح اور مسجد د اور امام کامل اور مسیح موعود ایدہ اللہ کی عداوت سے دست بردار ہو جائیں۔ورنہ حسرت سے دانت پینا اور رونا ہوگا۔آئندہ اختیار بدست مختار - شعر گرامروز ایں پند من نشنوی یقین داں کہ فردا پشیمان شوی الراقم المسکین ضیاءالدین عفاعنہ وما علينا الا البلاغ۔صبر واستقامت وسعت تبلیغ اور اس کا اثر : ۲۰ دسمبر ۱۸۹۵ء قاضی عبدالرحیم صاحب بیان کرتے تھے کہ والد ماجد کو اپنے گاؤں کوٹ قاضی محمد جان میں مخالفوں نے قریباً تیرہ برس تک سخت تکالیف پہنچائیں۔مقاطعہ کئے رکھا۔نقب زنی بھی کرادی گئی۔مگر آپ نے استقامت سے مقابلہ کیا۔اور سب کام کاج چھوڑ کر اپنا سارا وقت تبلیغ میں صرف کرنا آپ نے اپنا معمول بنا رکھا تھا۔قاضی محمد عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ والد بزرگوار کو سارے ضلع میں پھر کر تبلیغ کرنے کا بڑا شوق