اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 32 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 32

32 ایں سعادت بزور باز و نیست تانه بخشد خدائے حضرت عرفانی صاحب لکھتے ہیں: بخشنده حضرت قاضی ضیاء الدین رضی اللہ عنہ ایک یکرنگ مخلص دوست تھے۔وہ اخلاص و عقیدت میں ایسے ڈوبے ہوئے تھے کہ جب پہلی مرتبہ قادیان آئے تو انہوں نے مسجد اقصے کے محراب والی دیوار پر اپنے جذبات کا اظہار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک شعر میں اس طرح پر کیا۔حسن خلق و دلبری بر تو تمام حبت بعد از لقائے تو حرام خاکسار عرفانی کے ساتھ بھی انہیں بزرگانہ محبت تھی۔آپ کے ذریعہ ضلع گوجرانوالہ میں سلسلہ کی بہت تبلیغ ہوئی اور اکثر لوگوں کو انکی وجہ سے ہدایت نصیب ہوئی۔انکے خاندان کے سب لوگ اس سلسلہ میں بحمد للہ داخل ہو گئے۔اس لئے (کہ ) وہ اپنے علاقے میں زہد و تقویٰ کے لئے مشہور تھے۔“ (14) عبد الحق غزنوی سے مباحثہ : قاضی محمد عبد اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے گاؤں کوٹ قاضی جان محمد ) میں قاضیوں کے دو اہم فریق بن گئے تھے۔اس وجہ سے با ہمی مخاصمت و مخالفت بڑے زور پر ہوگئی تھی۔حضرت والد صاحب کی تبلیغ سے ایک پتی کے نمبر دار قاضی سراج دین صاحب مع اپنے دو بھائیوں قاضی فضل دین صاحب اور قاضی چراغ دین صاحب دوسری پتی کے نمبر دار کے بھائی قاضی محمد یوسف صاحب حق قبول کر کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں شامل ہو گئے تھے۔ہر سہ ۳۱۳ صحابہ کبار میں شامل ہوئے۔ان کے اسماء فہرست مندرجہ انجام آتھم میں نمبر ۱۴۴ ۱۴۳۔۱۹۱۔۱۴۲ پر درج ہیں۔لیکن دوسری پتی کے نمبر دار قاضی محمد شریف صاحب اور تیسری پتی کے نمبر دار قاضی نظام الدین صاحب سخت مخالف تھے۔اور وزیر آباد کے ایک حافظ نابینا عبدالمنان اور امرتسر کے غزنوی علماء کے زیر اثر تھے۔ان کی تقلید میں اپنے بھائیوں کو حضرت اقدس کی بیعت کر لینے کے باعث کا فرمرتد اور خارج از اسلام کہتے رہتے تھے۔انہی مخالفین نے حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کے بالمقابل نامی علماء بلانے کا انتظام کیا۔اس کے بواعث کیا تھے۔اس بارہ میں حضرت قاضی صاحب اس مباحثہ کی روئیداد مطبوعہ میں تحریر کرتے ہیں۔