اصحاب احمد (جلد 6) — Page 33
33 ”ہمارے اس گاؤں۔۔۔۔۔۔میں بعض اشخاص نے۔۔۔۔۔۔حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو تقلید مولوی محمد حسین بٹالوی کا فر کا فر کہنا عبادت لازمہ کی طرح فرض وقت سمجھ رکھا ہے۔ہر چند نیک نیتی کی راہ سے عاجز نے سمجھایا لیکن اس خیر خواہی کے صلہ میں۔۔۔اس عاجز راقم کو بھی اسی اپنی کفر کی مد میں داخل کر دکھایا۔یہاں تک نوبت پہنچا دی کہ اگر کوئی غریب سیدھا ساده بخوف خدا عاجز کی نماز جماعت میں مل گیا تو کل اسے اپنی نماز جماعت سے دھکے دے کر نکال دیا کہ بس اب تو ہم جیسے مسلمانوں کی جماعت کے لائق نہیں ہے۔غرض جب اس متعصبانہ کارروائی سے بعض اہل انصاف نے انہیں ندامتیں دیں اور گرد و نواح کے مولائی مسلمانوں نے مذمتیں شروع کیں۔تب ان صاحبوں نے بغرض منہ بند کر نے ان لوگوں کے اور طفل تسلی اپنے مقلدوں کے عاجز کے مقابل اس مباحثہ کی تقریب ڈالی۔“ (ص۵۴) احمدیوں کے خلاف یہ تعصب اور یہ عناد الزام پھر بھی احمدیوں پر عائد کیا جاتا ہے کہ حضرت اقدس نے بلا وجہ اپنی جماعت کو دوسرے مسلمانوں کی اقتداء میں نمازیں پڑھنے سے منع کر دیا ہے حالانکہ اور کوئی وجہ نہ بھی ہوتی تو دو وجوہات اور وہ بھی بہت اہم اور وقیع موجود تھیں۔ایک یہ کہ یہ لوگ جن میں ان کے پیر مولوی علماء اور امام الصلوۃ پیش پیش تھے۔حضرت اقدس کو کافر وغیرہ کہتے تھے۔حضور کے مرید بے غیرت بن جاتے۔اگر ایسے نام رکھنے والوں کو بطور پیش امام قبول کئے رہتے۔بھلا مسلمانوں کا کونسا فرقہ ہے۔جو دیگر ایسے فرقوں کی امامت قبول کرتا ہے۔جو انہیں کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ہرچہ خود مپسندی بر دیگراں ہم مپسند دوسری وجہ یہ تھی کہ یہ لوگ ایسے شخص کو بھی اپنی جماعت نماز سے نکال دیتے تھے۔جس نے اتفاقاً کسی احمدی کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لی ہو تو اگر حضرت مرزا صاحب نے اپنی جماعت کو الگ نمازیں ادا کرنے کی تلقین فرما دی تو کیا بُرا ہوا۔کیا مساجد کو آماجگاہ فتنہ وفساد بنانا اسلام ہے۔اور اس سے کنارہ کشی کرنا اس سے خروج ہے۔کتاب اللہ میں الفتنة اشد من القتل۔بتایا گیا ہے۔احمدی ہزار ہا مقامات پر موجود تھے۔اور ہر روز پنجگانہ نمازوں میں شرکت کرنا فرمان الہی ہے اور جب کہ نام نہاد سینکڑوں علماء نے جماعت احمدیہ پر کفر کا فتویٰ عائد کر دیا تھا۔تو گویا روزانہ ہزار ہا مقامات پرلڑائی اور دنگے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔جس سے احتراز شرعاً۔عقلاً ہر طرح واجب تھا۔قاضی صاحب کے ذیل کے بیان سے جو روئیداد مباحثہ میں ہی درج ہے۔ثابت ہوتا ہے کہ عرصہ دراز