اصحاب احمد (جلد 6) — Page 34
34 تک حضرت اقدس نے نمازوں کو الگ نہیں کیا۔بلکہ فتنہ و فساد سے احتراز کی خاطر احمدی خود ہی کنارہ کشی کرتے تھے۔اور بالآخر تمام حالات کے پیش نظر حضور کی طرف سے ممانعت کی گئی۔قاضی صاحب لکھتے ہیں۔پھر مولوی امام الدین۔۔۔۔۔۔منصفانه مصلح قوم بن کر قاضی نظام الدین و محمد شریف کی جانب سے پیغام لائے کہ ہم مرزا جی کی تکفیر سے زبان کو نہ کر لیتے ہیں صلح کر لو۔نمازیں اکٹھی اتفاق سے پڑھو۔فضول جھگڑا اچھا نہیں۔عاجز نے بمعہ رفقاء خود قاضی محمد یوسف صاحب و سراج الدین صاحب تھوڑی سی بات چیت کے بعد مان لیا۔چنانچہ مصلح صاحب خوش واپس گئے۔پھر چھ پہر کے بعد۔۔۔۔۔پیغام لائے کہ وہ صاحب بالمقطع صلح سے تو رہ گئے۔اب کہتے ہیں کہ تم پہلے مرزا جی کی مریدی سے باز آؤ۔بیعت توڑ دو اور ان کے تمام عقائد ورسائل سے تو بہ کرو پھر ہم بھی مرزا جی کو کا فرنہیں کہیں گئے، (ص 11) 1890ء میں مولویوں نے کفر کا فتویٰ دیا اور احمدیوں کی نماز جنازہ اور ان سے شادی بیاہ حرام قرار دیا۔چنانچہ سید نذیر حسین دہلوی نے فتویٰ دیا۔جس کی قریباً دوصد علماء نے تصدیق کی۔(15) مولوی محمد حسین بٹالوی اور دہلی کے مولویوں نے ۱۸۹۱ء میں حضرت اقدس کے خلاف اشتہارات شائع کئے۔جن میں آپ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔سید نذیر حسین مذکور نے اپنے فتویٰ میں تحریر کیا: اب مسلمانوں کو چاہئے کہ ایسے دجال کذاب سے احتر از اختیار کریں اور اس سے دینی معاملات نہ کریں۔جواہل اسلام میں باہم ہونے چاہئیں۔نہ اس کی صحبت اختیار کریں اور نہ اس کو ابتداء سلام کریں اور نہ ان کو دعوت مسنون میں بلاویں۔اور نہ اس کی دعوت قبول کریں اور نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔" قاضی عبید اللہ مدراس نے حضرت اقدس کے ماننے والے کا نکاح فسخ اور بعد کی اولاد کو معاذ اللہ ولد الزنا قرار دیا اور جنازہ کو قبرستان میں دفن کرنے سے منع کیا اور لکھا کہ ”بغیر غسل و کفن کے گتے کی مانند گڑھے میں ڈال دینا۔(16) مولا نا عبدالاحد خان پوری کا ذیل کا اقتباس قابل مطالعہ ہے۔اسے فخر کے ساتھ اقرار ہے کہ سب کارستانی ان مخالفین کی طرف سے عمل میں آئی اور ان کی طرف سے بہیمانہ سلوک روار کھے گئے۔پھر بھی حضرت اقدس کا رویہ مصالحانہ رہا۔لیکن اس مصالحانہ رویہ کو بھی دھو کہ قرار دیا گیا۔انا اللہ۔مولوی مذکور لکھتا ہے: جب طائفہ مرزائیہ امرتسر میں بہت ذلیل و خوار ہوئے۔جمعہ جماعت سے نکالے گئے اور