اصحاب احمد (جلد 6) — Page 4
4 جو ایک بعد کی روایت کی بناء پر تذکرہ میں درج ہوا ہے۔اور اس بارہ میں خاکسار نے ایک اور تصدیقی روایت بھی شامل کی ہے۔حضرت عرفانی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے مفید وجود سے محرومی کے باعث میں کتاب ہذا میں بہت سی خامیاں پاتا ہوں۔جن کی اصلاح کا کوئی سامان نہیں ہو سکا۔اس لئے معذرت خواہ ہوں۔احباب دعاؤں سے امداد فرما ئیں۔تا اللہ تعالیٰ باحسن طریق اور محسن نیت اصحاب احمد کے کام کی سرانجام دہی کے سامان مہیا فرماتا رہے۔والله المستعان و عليه توكلت و اليه أنيب مجھے دو مشکلات کا خصوصاً سامنا ہے۔ایک تالیفات کے خریدار ان کی کمی۔دوسرے اپنے بزرگان کے سوانح بتانے سے اکثر افراد کا تغافل۔مثلاً اصحاب احمد جلد پنجم کے حصہ دوم کی تکمیل کے لئے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب سے گہرا تعلق رکھنے والوں میں سے ایک کثیر تعداد کو خطوط لکھے گئے۔تا آپ کی سیرۃ کے متعلق کسی نہ کسی واقعہ سے مطلع کریں۔لیکن کسی ایک نے بھی توجہ نہیں کی۔اللہ تعالیٰ ان مشکلات کو رفع فرمائے۔آمین۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالی مکرم مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ (امیر صوبائی سابق صوبہ پنجاب ) سرگودھا۔مکرم میاں عطاء اللہ صاحب ایڈوکیٹ (امیر جماعت راولپنڈی) مکرم شیخ محمد احمد صاحب شیخ محمداحمد مظہر ایڈوکیٹ (امیر جماعت لائل پور ) اخویم چوہدری محمد شریف صاحب (سابق مبلغ بلا دعر بیہ ) ربوہ۔اور اخویم مولوی غلام باری صاحب سیف شاہد (پروفیسر جامعتہ المبشرین) ربوہ کا بے حد ممنون ہوں کہ ان سب نے مختلف رنگوں میں میری امداد فرمائی۔فجزاهم الله تعالیٰ احسن الجزاء في الدنيا و الآخرة۔آمین۔قارئین کرام! کتاب کے مطالعہ میں میری کوتاہیوں کا دامن جس قدر وسیع نظر آئے آپ براہ کرم اسی قدرا اپنے عفو اور درگذر کے دامن کو وسیع کر کے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس کام کو جاری رکھنے کا سامان اپنے فضل سے مہیا فرمائے۔اور ایسی کتب کی جو غرض و غایت ہے۔وہ باحسن طریق پوری ہو۔اور خاکسار کیلئے بھی اور ان احباب کیلئے بھی جنہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں اس بارہ میں امداد فرمائی ہے۔یہ امراجر و ذخر کا باعث ہو۔آمین یا رب العالمین۔۹ جنوری ۱۹۵۹ء ملک صلاح الدین ایم۔اے قادیان دارالامان