اصحاب احمد (جلد 6) — Page 112
112 موت کا غم نہیں ہوتا۔“ (72)۔(۲) حضرت قاضی صاحب اپنے روز نامچہ میں ۱۴/ اکتوبر ۱۹۰۲ء میں تحریر کرتے ہیں۔’ از حضرت اقدس بابت جلد چار عدد کشتی نوح۔ایک روپیہ۔بوقت انکار کہا کیا اجرت حرام ہے۔پس میں نے چپ کر کے لے لیا۔“ خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ قاضی صاحب نے چار عدد کتاب کشتی نوح کی جلد بندی کی۔جس کی اجرت حضرت اقدس نے ایک روپیہ دی۔تو قاضی صاحب نے حضور کی ذات بابرکات کے احترام کے پیش نظر اجرت نہ لینا چاہی اس پر حضور نے فرمایا ” کیا اجرت حرام ہے؟ پر۔(۳) مولوی محمد عبد اللہ صاحب ہوتا لوی لکھتے * ہیں کہ قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے سنایا کہ سردار فضل حق صاحب ساکن دھرم کوٹ کے اسلام لانے کا واقعہ ہمارے سامنے ہوا تھا۔جب سردار صاحب عید کے دن قادیان آ کر مسلمان ہوئے اور اس کے بعد کچھ دن قادیان ٹھہرے تھے۔ان کے دیگر رشتہ داران اس عرصہ میں چڑھائی کر کے آئے اور ان کو اسلام سے ہٹا کر واپس سکھ مت میں لانے کی کوشش کرتے رہے۔چنانچہ ایک دن ایک جتھ سکھوں کا آیا۔جس میں بوڑھے بوڑھے اور اپنے مذہب کے واقف لوگ بھی تھے۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد مبارک میں فروکش تھے۔وہ لوگ بھی مسجد مبارک میں ہی آگئے۔اور غیظ و غضب سے بھرے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔انہوں نے اسلام پر اعتراض کرنے شروع کر دئیے۔چنانچہ انہوں نے سوال کیا کہ مرجاجی ! ہمیں یہ بتاؤ کہ جس ملک میں چھ مہینے کا دن اور چھ مہینے کی رات ہوتی ہے۔وہاں مسلمان کیا کریں گے اور چھ مہینہ کا روزہ کس طرح رکھ سکیں گے۔اور نمازوں کے وقت کس طرح معلوم کریں گے۔یہ سوال انہوں نے اپنے خیال میں عقده لا نجل سمجھ کر پیش کیا۔لیکن حضرت اقدس نے نہایت آسانی کے ساتھ فوراً جواب دیا کہ اسلام کا کوئی حکم ایسا نہیں کہ جو انسانی طاقت سے باہر ہو۔لہذا اگر انسان چھ مہینے کا روزہ * مولوی صاحب کی روایات نمبر۳ تا ۷ ہیں۔جو انہوں نے قاضی صاحب سے سُن کر قلم بند کر رکھی تھیں۔اور اب خاکسار مؤلف کو مولوی صاحب کے صاحبزادہ اخویم مولوی عبدالرحمن صاحب انور اسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری سید ناخلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سے حاصل ہوئی ہے۔