اصحاب احمد (جلد 6) — Page 113
113 نہیں رکھ سکتا۔تو نہ رکھے۔اس صورت میں اس پر کوئی گناہ نہیں۔رہا نماز کے وقتوں کا سوال سو آج کل تو گھڑیوں کے ذریعہ نمازیں پڑھی جاسکتی ہیں اور دن اور رات کا اندازہ بھی اس مقام پر شرق اور غرب کے لحاظ سے کیا جاسکتا ہے۔اس پر وہ سکھ خاموش اور لاجواب ہو گئے۔اور جو اعتراض کا پہاڑ بنا کر وہ لائے تھے۔وہ حضور نے ذراسی پھونک سے ہی اُڑا دیا۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ سردار فضل حق صاحب سابق سند رسنگھ موصوف ۱۲ نومبر ۱۸۹۹ء کوسیدنا حضرت مسیح موعود کے دست مبارک پر اسلام قبول کر کے جماعت میں داخل ہوئے۔(73) (۴) مولوی محمد عبد اللہ صاحب ہوتا لوی لکھتے ہیں کہ : قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے مجھ سے ذکر فرمایا کہ اگر چہ حضرت مولوی نورالدین صاحب علم طب میں بہت کمال رکھتے تھے لیکن ہم نے دیکھا ہے کہ بعض اوقات کسی طبی مسئلہ میں ان کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ اختلاف ہو جاتا تو تبادلہ خیالات کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دلائل کے لحاظ سے مولوی صاحب پر غالب ہی آجاتے تھے اور مولوی صاحب کو لا جواب ہو کر آخر قائل ہی ہونا پڑتا تھا۔“ (۵) مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتا لوی لکھتے ہیں کہ : قاضی ضیاء الدین صاحب احمدیت سے پہلے اہل حدیث کا عقیدہ رکھتے۔اور مولوی عبداللہ صاحب غزنوی اور ان کی اولاد سے عقیدت رکھتے تھے۔ان کے ذریعہ سے ان کے گاؤں کے مالکان بھی اہل حدیث ہو گئے تھے۔چنانچہ قاضی صاحب ہی ان کے امام اور استاد اور طبیب بھی تھے۔اور اس وجہ سے وہ لوگ ان کی بہت عزت اور خدمت کرتے تھے۔احمدیت کی وجہ سے وہ لوگ سخت مخالف ہو گئے۔اور قاضی صاحب سے اپنے تمام تعلقات قطع کر لئے۔جب قاضی صاحب نے اس طور کے مقاطعہ کا اظہار حضرت اقدس سے کیا تو حضور بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ قاضی صاحب اچھا ہوا کہ یہ بھی ایک بت تھا جو ٹوٹ گیا۔“ (1) مولوی محمد عبد اللہ صاحب بوتالوی تحریر کرتے ہیں کہ : قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم نے خاکسار راقم سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ہم مہمانان قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دستر خوان پر حضور کے ہمراہ کھانا کھا رہے