اصحاب احمد (جلد 6) — Page 111
111 ۱۹۲۵ء۔فروری ۱۹۲۶ء اور مئی ۱۹۲۶ ء وغیرہ سے ظاہر ہے کہ آپ قلمی خدمت میں بھی نمایاں حصہ لیتے ہوئے اہم مضامین کے تراجم قارئین کے لئے مہیا کرتے رہے ہیں۔روایات ذیل میں روایات درج کی جاتی ہے۔گویہ زمانہ روایات محفوظ کرنے کا ہے۔تاہم حتی المقدور چھان بین کر لی جاتی ہے۔پہلے حضرت عرفانی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشورہ کرتا رہا ہوں۔اور اب بعض روایات پر حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ العالیٰ نے از راہ شفقت اپنا قیمتی مشورہ عنایت فرمایا ہے۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء (۱) روایات حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب (۱) حضرت عرفانی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ تحریر کرتے ہیں: حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب۔۱۹۰۰ ء میں ایک مرتبہ یہاں آئے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ایک ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے۔انہوں نے بہت سی مفید باتیں اور آپ کے کلمات طیبات ایک مخلص دوست کو تحریر فرمائے۔منجملہ ان کے آج ایک کا ذکر کرتا ہوں۔آپ نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: زندگی کی زیادہ خواہش اکثر گنا ہوں اور کمزوریوں کی جڑ ہے۔ہمارے دوستوں کو لازم ہے کہ مالک حقیقی کی رضا میں اوقات عزیز بسر کرنے کی ہر وقت کوشش رکھیں۔ورنہ آج چل دینے اور مثلاً پچاس سال کے بعد کوچ کرنے میں کیا فرق ہے۔جو آج چاند سورج ہے وہی اس دن ہو گا۔جو انسان نافع الناس اور اس کے دین کا خادم ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ خود بخود اس کی عمر اور صحت میں برکت ڈال دیتا ہے۔اور شر الناس کی کچھ پرواہ نہیں کرتا۔آپ سب کام ہر حال خدا میں ہو کر کریں۔خود اللہ تعالیٰ آپ کو محفوظ رکھے گا۔یہ الفاظ بھی فرمائے کہ میں سال سے زیادہ عرصہ گذرتا ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ تیری عمر اسی برس یا دو چار اوپر نیچے ہوگی۔اس میں بھی یہی بھید ہے کہ جو کام مجھے سپر د کیا ہے۔اس قدر مدت میں تمام کرنا منظور ہوگا۔لہذا مجھے اپنی بیماری میں کبھی