اصحاب احمد (جلد 6) — Page 85
85 حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب آپ کی تاریخ ولادت ۹ نومبر ۱۸۸۶ء ہے۔اس کا اندراج روز نامچہ میں کرتے ہوئے آپ کے والد ماجد نے آپ کا نام ”عبدالعزیز یعنی عبداللہ رقم فرمایا ہے۔اور فارسی زبان میں نوٹ دیا ہے کہ اگر چہ بلحاظ حدیث طبراني اذا سَمَيْتُمُ فَعَبدُوا وحديث ابن مسعود احب الناس الی الله ما تعبد بہ “ میں نے اپنے اس عزیز کا نام عبد العزیز مقرر کیا تھا۔لیکن اس کے بعد میرے نام نواب بھوپال کی طرف سے کتاب سراج الوهاج شرح تلخیص مسلم پہنچی۔جس کو میں نے پڑھا اور اس میں باب احب اسماء كم الى الله عبدالله و عبدالرحمن پس میں نے اپنے عزیز کا نام عبدالعزیز سے بدل کر عبد اللہ کر دیا۔اور اس تبدیلی کا موجب چار امور ہیں۔اول یہ کہ حافظ ابن حجر نے فتح الباری شرح صحیح بخاری میں وہ دو حدیثیں جو میں نے ابتداء میں لکھی ہیں۔ان کو ضعیف کہا ہے اور جو تیسری حدیث میں نے درج کی ہے۔وہ اصبح احیح مسلم میں سے ہے۔اس لئے جیسا کہ طریق محدثین علماء کا ہے کہ ضعیف پر قومی کو ترجیح دو۔میں نے مسلم کی حدیث کو ترجیح دی ہے۔دوسرا امر یہ ہے کہ قرآن مجید میں سوائے اللہ “ اور ”رحمن کے اور کسی اسم الہی کو بندہ کے ساتھ اضافت نہیں دی گئی۔جیسا کہ فرمایا " لِمَا قَامَ عَبْدُ اللهِ يَدْعُوهُ ، اور فرمایا ” وَعِبَادُ الرَّحْمنِ “ اور یہ بھی فرمایا کہ قِلُ اَدْعُوا اللَّهَ أَوِ ادْعُوا الرَّحْمَنِ “ اور تیسر امر یہ ہے کہ ”جناب نبوت صلعم کا ایک طریق یہ بھی تھا کہ تغیر و تبدل اسماء بطرف احسن فرماتے۔اور میں امیدوار ہوں کہ یہ تبدیلی نام کی کر کے اس ذات کامل الصفات متبوع جملہ مخلوقات کی اتباع حاصل کرونگا۔اور چوتھا امریہ کہ جناب عبد اللہ غز نوی جو میرے پیر طریقت ہیں۔انہوں نے مجھے راقم آثم کا نام بدل کر عبدالرحمن فرمایا تھا۔پس میں نے چایا کہ میں اس ولد سعید کا نام عبد اللہ رکھ دوں۔" ۳۱۳ صحابہ میں شمولیت بیعت و زیارت : چونکہ بوقت آغاز بیعت (اواخر مارچ ۱۸۸۹ء) آپ صرف دو سال ساڑھے چار ماہ کی عمر کے بچے تھے۔اس لئے الگ بیعت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔آپ کے والد ماجد کی بیعت میں ہی آپ کی بیعت بھی ہو گئی بلکہ آپ کو اور آپ کے برادر اکبر قاضی عبدالرحیم صاحب کو والد بزرگوار کے باعث ہی ۳۱۳ صحابہ میں جن کے اسماء ضمیمہ انجام آتھم ( تصنیف ۱۸۹۶ء جنوری ۱۸۹۷ء) میں درج ہیں۔شمولیت کا شرف حاصل ہوا۔اس وقت آپ کی عمر کم و بیش دس برس کی تھی۔گو آپ کو پہلی بار ۲۹/ مارچ ۱۹۰۰ ء کو زیارت حضرت اقدس کا موقعہ حاصل ہوا۔ذالک فضل الله يؤتيه من يشاء۔آپ کا نام وہاں یوں مرقوم ہے۔