اصحاب احمد (جلد 6) — Page 86
86 ۲۸۱۔قاضی عبد اللہ صاحب قاضی کوٹ آپ بیان کرتے ہیں کہ : حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے شرف ملاقات پہلی بار جمعۃ المبارک کے روز مسجد اقصیٰ میں بتاریخ ۲۹ مارچ ۱۹۰۰ ء ہوا۔جب کہ خاکسار اپنے والد ماجد صاحب مرحوم کے ساتھ بٹالہ سے پیدل چلتے ہوئے قادیان جمعہ کے وقت پہنچا تھا۔“ آپ اپنے تئیں ہمیشہ احمدیت سے وابستہ سمجھتے تھے۔چنانچہ آپ کا بیان ہے کہ : ” مجھے یاد ہے جب عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی کے بارہ میں ہمارے گاؤں کوٹ قاضی میں بہت چرچا تھا اور مخالفین جب یہ شور مچاتے کہ آتھم نہیں مرا تو اس وقت ہم سب کو تیر بہدف بناتے تھے۔(اس وعیدی پیشگوئی کی معیادہ ستمبر ۱۸۹۴ء تک تھی اور وہ عبداللہ آتھم کے رجوع کے باعث مل گئی تھی۔مؤلف ) نیز جب ہمارے گاؤں کوٹ قاضی میں مولوی بو پڑی اور عبدالحق غزنوی آئے اور (دسمبر ۱۸۹۴ ء میں۔مؤلف ) مباحثہ کیا تھا۔اس وقت خاکسار ہی اپنے والد صاحب مرحوم کی طرف سے مخالف مولویوں کو پیغام حق پہنچا تا تھا۔اور سلسلہ عالیہ میں شمار کیا جاتا تھا۔لیکن شروع میں براہ راست بیعت کرنے کا سن مجھے معلوم نہیں۔“ قادیان کے مدرسہ میں داخلہ : جب والد ماجد" آپ کو مارچ ۱۹۰۰ء میں قادیان لائے تھے تو مدرسہ تعلیم الاسلام کی چھٹی جماعت میں آپ کو داخل کرادیا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں وظیفہ کے باعث منتظمہ کمیٹی نے یہ عہد لینا چاہا کہ تعلیم ان کی منشاء کے مطابق دی جائے گی۔اس بارہ میں حضرت قاضی صاحب نے منتظمہ کمیٹی کو ذیل کی چٹھی لکھی تھی : عرضداشت بحضور کمیٹی منتظمان مدرسہ تعلیم الاسلام۔قادیان اما بعد جناب عالی گزارش التماس کمترین فدویان کی یہ ہے کہ میں اپنے بیٹے محمد عبد اللہ کو بغرض تعلیم مدرسہ تعلیم الاسلام میں داخل کرتا ہوں اور اپنی طرف سے عہد کرتا ہوں کہ اس کی تعلیم حضرات کمیٹی کی منشاء کے موافق و مطابق رکھی جائے گی۔میری طرف سے کسی طرح کا خلاف وانحراف نہ ہوگا۔اور فی الواقع خلاف ہو بھی کیوں۔جبکہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ کمیٹی مذکور پختہ جماعت حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہے۔پھر کیا اپنی جماعت کے غرباء کے لڑکوں کی نسبت مضمون فیض مشحون آیت رَبَّنَا اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَّ فِي الْآخِرَةِ