اصحاب احمد (جلد 6) — Page 84
84 کرنے کیلئے زور دیا۔جو فی الفور ادا کر دیا گیا تھا۔قاضی عبدالسلام صاحب کے ہمشیرہ زاد لئیق احد صاحب سناتے ہیں کہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے فرمایا کہ میں ان کی عیادت کو جانے والا تھا۔جنازہ تیار ہونے پر اطلاع دی جائے۔میں خود جنازہ پڑھاؤں گا۔چنانچہ حضور ہی نے جنازہ پڑھایا۔اور مرحومہ کو امانتاً لا ہور میں دفن کر دیا گیا۔۱۹۵۴ء میں قاضی عبد السلام صاحب پاکستان آئے تو قبر کھدوا کر نئے صندوق میں ڈال کر لے گئے۔جہاں اپنے والدین کے قرب میں قطعہ صحابہؓ بہشتی مقبرہ ربوہ میں ان کی تدفین عمل میں آئی۔اللھم اغفرلها وارحمها و ادخلها برحمتک فی جنة النعیم۔آمین۔