اصحاب احمد (جلد 6) — Page 148
148 اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص قدرت سے پورے کر دئیے۔اور گوسارا گھر تو ہاتھ سے جاتا رہا۔لیکن عجیب قدرت خداوندی نه صرف یہ مکتوب بلکہ اس کے باعث دیگر مکتوبات اور روز نامچے بھی ضائع ہونے سے محفوظ رہے۔سبحان اللہ۔اللہ تعالیٰ کیسی عجائب در عجائب قدرتوں کا مالک ہے۔اس کے اذن کے بغیر ایک پتہ تک حرکت نہیں کرسکتا۔جب محلہ جات خالی ہو گئے تو آنا فانا غیر مسلم مکانات میں ٹھس گئے اور لاکھوں میں سے ایک مکان بھی بمشکل تھا کہ کوئی ایسی چیز محفوظ رہتی۔اور پھر ان قیامت سا اور روح فرسا حالات میں کون کسی سکھ پر اعتبار کر کے گھر جا سکتا تھا۔یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ اس نے ایک طرف وہ بستہ محفوظ رکھا۔دوسری طرف اس سکھ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ وہ ایسی پیشکش کرے۔تیسری طرف قاضی صاحب کے دل کو تقویت دی۔اور ان کو تحریک کی کہ یہ پیشکش قبول کر لیں۔میں اسے اللہ تعالیٰ کی خاص قدرت اس لئے کہتا ہوں کہ قاضی بشیر احمد صاحب گھر لوٹے اور صرف یہی بستہ اٹھا کر واپس آئے۔جس میں مکتوب مذکور تھا۔گویا اسے محفوظ رکھنے کے اسباب اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے۔جو مسبب الاسباب اور تمام قدرتوں کا مالک ہے۔سوذ والعجائب خداوند کریم نے چراغ دین کے تعلق میں ایک جدید رنگ میں ہمارے ازدیاد ایمان کا سامان پیدا کر دیا۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ۔خاتمة الكتاب : قیام جماعت سے تین سال قبل ۱۸۸۶ء میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے بمقام ہوشیار پور اسلام کی سربلندی اور ترقی کیلئے بہت دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو قبول کرتے ہوئے آپ کی اولاد کے ذریعے اعلائے کلمتہ اللہ ہونے کی پیش خبری دی اور نہ صرف آپ کی اولا د بلکہ آپ کے خالص محبوں کو بھی برکات دینے اور معاندین کو نا کام کرنے کا وعدہ فرمایا۔چنانچہ اس وحی الہی کا ایک حصہ یہ ہے۔اور ایسا ہوگا کہ سب وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے نا کام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور نا کامی اور نا مرادی میں مریں گے۔۔۔۔۔۔میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا۔اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا۔اور ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تا بروز قیامت غالب رہیں گے۔جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔خدا انہیں نہیں بھولے گا۔اور فراموش نہیں کرے گا۔اور وہ علی حسب الاخلاص اپنا اپنا اجر پائیں گے۔“ (93)