اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 149 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 149

149 قارئین کرام ! اس کتاب کے ختم کرنے سے پہلے میں اس پر عظمت و جلال وعدہ اور پُر ہیبت وعید کی طرف آپ کی توجہ منعطف کرتا ہوں جو آپ اور اق سابقہ میں مطالعہ فرما چکے ہیں۔كَتَبَ اللَّهُ لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِی اوراِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَ اِهَا نَتَكَ وَ إِنِّي مُعِيُنٌ مَنْ اَرَادَ إِعَانَتَكَ کے نشانات کس طرح حیرت انگیز طور پر پورے ہوئے۔خود حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کے خاندان میں قاضی ظفر الدین اور ان کے اقارب معاندین میں شامل تھے۔حضرت اقدس نے قاضی ظفر الدین اور بعض دیگر دشمنان سلسلہ کے متعلق اپنی عربی نظم میں تحریر فرمایا تھا کہ میں ان کے سر میں تکبر کے کیڑے دیکھتا ہوں اور اگر خدا چاہے تو وہ کیڑے نکال دے گا۔اور ان کو جڑھ سے اکھاڑ دے گا۔(94) نیز فرمایا تھا کہ : اگر اب بھی مخالفوں نے عمداً کنارہ کشی کی تو نہ صرف دس ہزار روپے کے انعام سے محروم رہیں گے بلکہ دس لعنتیں انکا از لی حصہ ہوگا۔‘ (95) یہ نشان آپ کے ملاحظہ میں آچکا ہے کہ کس طرح قاضی ظفر الدین کے خاندان کے ایک ایک فرد کو ذلت وخواری سے سابقہ پڑا۔اور وہ مور دقبر و عتاب الہی ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ کا مقابلہ کرنے کی پاداش میں اس گھرانہ کا استیصال کر کے اس کا نام ونشان تک صفحہ ہستی سے مٹادیا۔اور انہیں گذشتہ انبیاء کے مکد بین کی طرح فَتِلْكَ بُيُوتُهُمْ خَاوِيَةٌ کا عبرت انگیز مرقع بنا دیا۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ! اس خاندان کا جو حصہ حضرت اقدس کے خالص اور دلی محبوں میں شامل ہوا۔اللہ تعالیٰ نے اس کو خاص برکات و فیوض عطا کئے۔اور خدمات اسلام کی نمایاں توفیق عطا کی۔اس گروہ میں ہمیشہ خشیۃ اللہ تقوی اللہ الہیت عشق الہی۔الحُبُّ وَ الْبُغْضُ لِلَّهِ - مسابقت فى الخیرات۔انفاق فی سبیل اللہ۔دنیا سے بے رغبتی۔غرضیکہ اسلامی مناقب اور اخلاق اور اللہ تعالیٰ کا زندگی بخش تعلق اور اس کے نشانات اور قرون اولیٰ کے مسلمانوں کے سے إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ کے مطابق شاندار نمونے سامنے آتے ہیں۔حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب حضرت اقدس علیہ السلام کے ساتھ حضور کے دعویٰ سے بھی چارسال پہلے وابستہ ہو چکے تھے۔اور انتہائی عقیدت رکھتے تھے۔پھر دعوئی کے آغاز ہی پر السَّابِقُونَ الْأَوَّلُون میں شامل ہونے کا آپ کو شرف حاصل ہوا۔آپ اور آپ کے دونوں بیٹوں کو ۳۱۳ صحابہ کے مقدس گروہ میں شمار ہونے کی فضیلت حاصل ہوئی اور مالی اور تبلیغی جہاد کی توفیق پائی۔حضور نے بتا کید آپ کو ہجرت کی تلقین فرمائی۔چنانچہ آپ