اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 147 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 147

147 اس خط کو بہت محفوظ رکھا جائے اور اس کا جواب لکھ دیا جاوے کہ اب صبر سے خدا تعالیٰ پر توکل مرزا غلام احمد عفی عنہ“ * کریں۔دعا کی جائے گی۔والسلام اس مقدمہ کے متعلق یوں ہوا کہ عین اس تاریخ کو جس دن دعویٰ دائر ہونا تھا اور سب تیاری ہر طرح سے مکمل ہو چکی تھی۔اس دن علی اصح پتہ لگا کہ وہ عورت اپنے آشنا کے ساتھ * غائب ہو گئی اور اس طرح ان مخالفوں کی ساری کارستانی پر پانی پھر گیا۔اور میرے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبولیت دعا اور حضور کی توجہ کی برکت کا ایک روشن نشان ظاہر ہوا۔کیونکہ شہر کے تمام غیر احمدی مخالفوں نے بڑی کامیابی کی امید رکھتے ہوئے۔اس منصو بہ کو کھڑا کیا تھا۔اور مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی دائر کرنے کے لئے قریباً پانچ صد روپیہ بھی فراہم کر لیا تھا۔لیکن وہ سب لوگ مع عیسائی معاون کے خائب و خاسر ہوئے۔فاعتبرو آیا اولی الابصار حضرت مسیح موعود کیا خوب فرماتے ہیں: میں یقینا کہتا ہوں کہ ہمارا خدا وہ خدا نہیں جو اپنے صادق (بندہ) کی مدد نہ کر سکے۔بلکہ ہمارا خدا قادر خدا ہے۔جو اپنے بندوں اور۔۔۔غیروں میں ما بہ الامتیاز رکھ دیتا ہے۔اگر ایسا نہ ہو تو پھر دعا بھی ایک فضول شے ہو۔“ (92) تیسرانشان : چراغ دین اور اس کے اہل وعیال کی تباہی کے یہ نشانات حضرت اقدس کی مبارک زندگی میں ظاہر ہوئے۔ایک اور نشان اس کے چالیس بیالیس سال بعد ۱۹۴۷ء میں ظاہر ہوا۔آپ کے فرزند قاضی بشیر احمد صاحب سناتے ہیں کہ ہمارا مکان جو دار البرکات شرقی میں تھا۔۱۳ کتوبر ۱۹۴۷ء کو حملہ کے باعث اسے چھوڑ کر ہمیں بورڈنگ تعلیم الاسلام ہائی سکول میں پناہ گزین ہونا پڑا۔دوسرے دن ایک سکھ نے جو میرا واقف تھایہ پیشکش کی کہ کوئی ضروری چیز گھر سے لانی ہو تو میں آپ کی رفاقت کرتا ہوں۔آپ چلیں اور لے آئیں۔چنانچہ میں گیا۔اور جلدی میں وہ بستہ جس میں حضرت اقدس کا یہ مکتوب اور دیگر مکتوبات اور دادا جان اور والد ماجد کے روز نامچے تھے اُٹھالایا۔گویا حضرت اقدس کے قلم مبارک سے جو یہ لفظ نکلے تھے کہ اس خط کو بہت محفوظ رکھا جاوے“ مکتوبات احمد یہ جلد ہفتم حصہ اول میں خاکسار نے اسے اول بار شائع کیا ہے۔بلکہ بلاک بھی درج کیا ہے۔