اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 598 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 598

۶۰۴ مدت مقرر کر کے امانت رکھے کہ اتنے عرصہ تک انجمن استعمال کر سکتی ہے کیا ایسی صورت میں زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہوگی یا زیورات کی طرح کو جو غرباء کے استعمال کے لئے دیا جاتا ہو اس پر بھی کوئی زکوۃ نہیں ہوگی۔فتوی: زکوۃ صرف ان زیورات پر نہیں ہوتی جو کسی کے اپنے استعمال کے ہوں۔اگر وہ استعمال کے زیورات کسی دوسرے کو بھی عاریتا دئے جائیں۔تب بھی ان پر زکوۃ نہیں لیکن جب زیورات اپنے استعمال -۲ سے زائد ہوں وہ اگر دوسروں کو استعمال کے لئے دئے جائیں۔تب بھی ان پر زکوۃ ادا کرنی ہوگی۔جب قرض کی رقم پر بھی زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہے حالانکہ واپسی قرض کی معیاد عموما معلوم بھی نہیں ہوتی۔سوائے اس قرضہ کے جس کی وصولی کی امید نہ ہو۔پس ایسے قرضے جن کی واپسی کی معیاد مقرر ہو وہ زکوۃ سے کسی طرح چھوٹ سکتے ہیں۔اسی طرح وہ امانت بھی جو کسی کے پاس رکھی جائے اور امین کو خرچ کرنے کی بھی اجازت دے دی جائے۔وہ بھی زکوۃ سے مستثنیٰ نہیں کیا جاسکتا۔زکوۃ ہر صورت میں ادا کرنی ہوگی۔۳۴- کیا دو آدمیوں کا جمعہ جائز ہے استفتاء - کیا دو آدمیوں سے جمعہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فتویٰ الحکم ۱۲۱ اپریل ۱۹۳۵ء صفحہ ۶ پر ہے کہ دو آدمیوں سے جمعہ ہو سکتا ہے؟ فتوی: اس وقت غالباً (سید محمد احسن صاحب یا حضرت خلیفہ المسح اول تشریف رکھتے تھے۔آپ نے دریافت کیا کہ یہ مسئلہ کس طرح ہے انہوں نے اسے اختلافی مسئلہ بتایا پھر آپ نے فرمایا کہ دو آدمیوں کی جماعت ہوسکتی ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ہو سکتی ہے۔آپ نے فرمایا پھر جمعہ بھی ہوسکتا ہے۔( مجموعہ فتاویٰ احمد یہ جلد اول)۔مسئلہ پیش ہوا کہ دو آدمی کسی گاؤں میں ہوں تو وہ بھی جمعہ پڑھ لیا کریں یا نہ۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے مولوی محمد احسن صاحب سے خطاب فرمایا تو انہوں نے عرض کی کہ دو سے جماعت ہو جاتی ہے۔اس لئے جمعہ بھی ہو جاتا ہے۔آپ نے فرمایا ہاں پڑھ لیا کریں فقہاء نے تین آدمی لکھے ہیں۔اگر کوئی اکیلا ہو تو وہ اپنی بیوی وغیرہ کو پیچھے کھڑا کر کے تعداد پوری کر سکتا ہے۔حضرت شاہ ولی اللہ شاہ صاحب کا خیال۔شاہ صاحب نے اپنی کتاب حجتہ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ جمعہ کا لفظ اجتماع پر دال نہ ہو۔قانون نے تین پر جمعہ فرض کیا۔مگر یہ صحیح نہیں جماعت میں بھی اجتماع پر دال ہے۔لیکن تین کیا دو سے بھی جماعت ہو جاتی ہے پس ہمارا فتویٰ یہی ہے کہ دو احمد یوں کو جمعہ پڑھنا چاہئے۔