اصحاب احمد (جلد 5) — Page 599
-۲ 1 عورت پر جمعہ فرض نہیں۔لہذا اگر ایک مرد اور اس کے ساتھ ایک عورت ہو تو ان پر جمعہ ضروری اور فرض تو نہیں لیکن اگر پڑھ لیں تو ادا ہو جائے گا۔جیسا کہ مسافر کے لئے فقہاء نے لکھا ہے۔۳۵- بابت رہن استفتاء (از دار القضاء - قادیان) کیا ضروری ہے کہ رہن میں میعاد ہو۔کیا یہ شرط درست ہے کہ میں جب چاہوں زر رہن دے کر فک کراسکتا ہوں۔۲- اگر راہن یہ شرط لے کر اتنے عرصہ میں اگر فک نہ کر والوں تو پھر مرتہن اس چیز کو اتنے عرصہ کے لئے رہن کر سکتا ہے تو یہ جائز ہے؟ ۳- اگر مر ہونہ چیز کی قیمت کم ہو جائے تو کیا مرتہن یہ کر سکتا ہے کہ اس چیز کو فروخت کر کے بقیہ قیمت کا مطالبہ راہن سے کرے۔فتوی: 1- رہن میں معیاد کا ہونا ضروری نہیں۔اور یہ شرط کہ جب چاہوں زرر ہن دے کر فک کرالوں گا۔یہ درست ہے۔۲- اس اس قسم کی شرط رہن کے وقت کر لینا جائز ہے۔-۳- اگر راہن اور مرتہن آپس میں فروخت کرنے کا معاہدہ کر لیں تو مرتہن فروخت کر سکتا ہے ورنہ اسے قضاء میں جانا چاہئے۔اس پر قاضی جو فیصلہ کرے اس پر عمل ہوگا۔اور اگر فروخت کرنے کا معاہدہ ہو چکا ہو تو بھی مرتهن خود مطالبہ نہیں کر سکتا۔ہاں اگر قاضی فیصلہ کر دے تو ہوسکتا ہے۔(۳۵-۰۷-۱۵) کیا ادھارکوسودا مہنگا دینا جائز ہے استفتاء ( از صد رعمومی صاحب انجمن مقامی قادیان) کیا یہ جائز ہے کہ وہ دوکاندار نقد خریدنے والے کو سستا سودا دے اور ادھار خریدنے والے کو مہنگا دے۔فتویٰ صحیح حدیث میں آتا ہے ( اور اسی حدیث میں سود کی تعریف کی گئی۔اور سید نا حضرت مسیح موعود نے اسی حدیث کو لے کر فرمایا ہے کہ سود کی یہی تعریف ہے) کہ کُل قرض جرنفعًا فھوربی اور یہ ظاہر ہے کہ ادھار دینا قرض ہے اور ادھار دے کر گراں فروخت کرنے میں قرض نفع لاتا ہے لہذا یہ صریحا سود ہے۔(۱۳-۰۳-۳۷)