اصحاب احمد (جلد 5) — Page 529
۵۳۴ تعجب سے فرمایا کہ ابھی تک نماز کیوں نہیں پڑھی گئی؟ حضور تشریف لائے نمازیں پڑھائیں اور آمدہ جمعہ میں خطبہ ارشاد فرمایا کہ ایسی صورت میں نماز پڑھ لینی چاہئے۔مگر ہمارے مولوی صاحب نے باوجود ز و دطبیعت نمازیوں کے اصرار کے جو ذکر الہی کرتے رہے یا خاموش ہو کر بیٹھے رہنے کی بجائے گھڑیوں کی سوئیوں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور تنگ پڑ جاتے ہیں۔امام پر تقدم نہ کیا۔اور یہی فرماتے رہے کہ جب حضور نے فرما دیا ہے کہ میں آتا ہوں تو پھر میں نماز نہیں پڑھا سکتا۔سبحان اللہ یہ ہے اطاعت امام اور یہ ہے مقام فنا جس کے بعد ملتا ہے انعام بقاء! نیز آپ اپنی موجودگی میں کوشش کرتے تھے کہ کوئی دشن انسان تو کیا۔کوئی کبھی بھی حضرت خلیفہ المسینے کے پاس پھٹکنے نہ پائے۔اور اس غرض کے لئے اپنا رومال ہلاتے رہتے تھے۔اس نظارہ الفت ومحبت کا بیان کرنا زبان قلم کا کام نہیں۔شنیدہ کے بود مانند دیده (11) الحکم والفضل اور سلسلہ احمدیہ کے دیگر رسائل میں بھی آپ کے بہت سے علمی مضامین وفتاولی شائع شدہ ہیں۔ممکن ہے اللہ تعالی برادرم مکرم ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے مؤلف اصحاب احمد کو اصحاب احمد کی بقیہ حاشیہ : خدا تعالیٰ کا کلام تو ان سب خرابیوں سے منزہ تھا مگر ان مترجمین اور مفسرین کے غلط تراجم اور غلط تفاسیر کی وجہ سے تیرہ صدیوں میں جو خرابیاں پیدا ہو گئی تھیں۔ان کو سوائے خدا تعالیٰ کے اس موعود کے کہ جس کی نسبت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے سے فرما رکھا تھا کہ وہ حکم و عدل ہوگا۔اور کہ لوکان الايمان معلقًا بالثريالناله رجلٌ من ال فارس ۲۲ گرایمان ثریا کے ساتھ لٹکا ہوا ہوگا۔تو آل فارس سے ایک شخص اس کو لے آئے گا ) اور کوئی رفع اور دفع نہیں کر سکتا تھا۔پس میں نے حتی الامکان اس حکم و عدل یعنی سید نا حضرت مسیح موعود کی خوشہ چینی سے خواہ وہ حضور سے بلا واسطہ زبانی یا آپ کی تحریروں سے یا آپ کی تحریروں سے یا حضور کے ہر دو خلیفوں کے واسطہ سے حاصل کیا تھا اس کے مطابق اس ترجمہ کولکھا ہے اور اس کے بعض مشکل مقامات پر کہ جہاں کوئی اعتراض وارد کیا تھا یا کوئی غلطی واقع ہوئی تھی مختصر نوٹ بھی لکھے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ جو ان کو غور سے توجہ سے پڑھے گا۔انشاء اللہ اس پر قرآن مجید کے دوسرے مشکل مقامات بھی حل ہو جائیں گے اور دوسرے اعتراضات کو بھی رفع کر سکے گا اور خداوند کریم کے فضل وکرم سے اس ترجمہ میں اور بھی بہت سی خوبیاں ہیں جن کو اس مختصر تحریر میں بیان کرنے کی گنجائش نہیں پڑھنے والے خود معلوم کر لیں گے۔