اصحاب احمد (جلد 5) — Page 22
۲۲ نے کہا کہ مفتی صاحب کہتے ہیں کہ اگر یہ مجھ سے طب پڑھے تو دوسرے طالب علموں کو طب پڑھنے پر میں سات روپے وظیفہ دیتا ہوں۔اسے دس روپئے دوں گا۔پہلی بار میں نے عربی کا ایک شریف اور ذہین طالب علم دیکھا ہے۔شریف اس لئے کہ وہی الفاظ جو میں اور طالب علموں کو کہا کرتا ہوں اس کی طبیعت انہیں برداشت نہیں کر سکی اور ذہین اس لئے کہ جو کتاب اس نے پڑھی ہوئی نہیں اس کے مشکل ترین مقام کا صحیح مطلب بغیر مطالعہ کے اس نے بتا دیا اور حاشیہ سے باہر بہت سی صحیح باتیں بتائیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ میرے والد صاحب طبیب ہیں اور مجھے خود بھی طب کا شوق ہے۔میں طب کا سبق ان سے پڑھوں گا لیکن وظیفہ نہیں لوں گا۔چنانچہ آپ نے ان سے شرح اسباب پڑھی وہ واقع میں علم طب کے بڑے ہی ماہر تھے۔لا ہور میں گزارہ کی صورت آپ مدرسہ نعمانیہ میں داخل ہو گئے۔وہاں غالباً سوا یا ڈیڑھ پاؤ آٹا اور آدھا پیسہ فی وقت ہر طالب علم کا ملتا تھا۔پاس ہی ایک نانبائی کی دوکان تھی۔انجمن اسے کچھ مزدوری دیتی تھی۔طالب علم آٹا گوندھ کر لے جاتے اور وہ روٹی لگا دیتا اور آدھے پیسہ کی دال دے دیتا۔جب نقیب آٹا اور پیسہ دینے کے لئے آپ کا نام بھی پکارتا تو آپ لینے کے لئے نہ جاتے۔وہاں ایک طالب علم غلام محمد ڈیرہ اسمعیل خاں کا رہنے والا تھا۔وہ بعد میں حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ سے طب پڑھنے کے لئے قادیان آیا اور چونکہ وہ یہاں کسی نو وارد فقیر کی لڑکی سے دھوکا فریب سے شادی کرنا چاہتا تھا۔اس لئے اسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں سے نکال دیا پھر وہ کبھی قادیان نہیں آیا۔دوسرے طالب علموں کو تو حضرت مولوی سرورشاہ صاحب نے ٹال دیا لیکن غلام محمد بہت پیچھے پڑا کہ آپ پیسے کیوں ضائع کرتے ہیں لے لیں۔کسی کام آجائیں گے۔وہ آپ کی خدمت بھی کرتا تھا۔آپ نے اسے کہا تم لے لیا کرو۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے یہ سامان کر دیا کہ آپ کی ایک ماموں زاد بہن جو ایک جاگیردار کی بیوہ تھی۔انہوں نے آپ کے والد صاحب کو کہا کہ سرور شاہ کے لباس اور کتابوں کے لئے میں روپیہ دیا کرونگی۔چنانچہ وہ ایک سو سے دوسور و پئے تک سالا نہ بھیج دیا کرتی تھیں۔دہر یہ اُستاد کی وجہ سے لاہور چھوڑنا آپ کے لاہور کے استاد صاحب بہت آزاد طبیعت واقع ہوئے تھے۔اتنی آزادی آپ کی برداشت سے باہر تھی۔عام طور پر وہ ایسی بات کرتے تھے جس سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ سننے والوں کو دہر یہ بنانا چاہتے