اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 64 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 64

۶۴ نہیں۔آپ نے کہا نہیں۔تو آپ نے فرمایا صلاح الدین نام رکھ لیں۔حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا گھر تشریف لائیں اور بچہ کو دیکھ کرفرمایا کہ یہ ہو بہو مبارک احمد ہے۔اس کا نام مبارک احمد رکھیں۔چنانچہ عام استعمال میں مبارک احمد نام آتا ہے اور کاغذات میں صلاح الدین مبارک احمد۔مباحثہ مڈ اور اُس کی اصل وجہ محترم ایڈیٹر صاحب الحکم تحریر کرتے ہیں کہ : - " حضرت مسیح موعود نے اپنی پاک فطرت کے موافق ابتداء میں علماء کو جب دعوت کی اور انہوں نے اسے نہایت تندہی اور تیزی سے رد کیا۔نہ صرف رڈ کیا بلکہ اس کی مخالفت کے لئے اُٹھے تو آپ نے ان کو مباحثات کے لئے بلایا اور نہایت نرمی ، پیار اور محبت سے چاہا کہ وہ امر حق سمجھ لیں اور دوسروں پر اسے مشتبہ نہ کریں۔مگر جب ان لوگوں کے حالات مکرو زور آپ پر کھلے اور ان کا ظلم و افتراء حد سے گذر گیا تو آپ نے اعلام الہی سے مباحثات کو خود بند کر دیا اور آسمانی نشانات اور تائیدات کے لئے دعوت کی۔جب اس طرف بھی کوئی نہ آیا تو پھر آپ نے قلم کے ذریعہ ان غلط بیانیوں کی اصلاح کرنی چاہی جو مخالف پھیلا رہے تھے اور خدا کا شکر ہے کہ آپ اس میں پورے کامیاب ہوئے۔مگر مخالفوں نے اپنی شرارت کو نہ چھوڑا وہ اس میں ترقی ہی کرتے رہے۔ان کا شرارتوں میں ترقی کرنا ، اللہ تعالیٰ کی غیرت کا محرک ہوا۔ادھر سے حقائق و معارف اور تائیدات کا ایک پُر زور سلسلہ شروع ہو گیا اور جماعت میں اس قدر ترقی شروع ہوئی کہ اب بیعت کے نام لکھنے والے بھی تھک گئے اور اب مخالفوں کو جب کوئی اور حیلہ ہاتھ نہ آیا تو یہ تجویز سوجھی کہ جہاں کوئی احمدی ہو اس کے خلاف لوگوں میں جوش پیدا کیا جاوے اور اشعال دلا کر اس کو ہر قسم کی تکلیف دی جاوے۔چنانچہ مد پر بھی جو مباحثہ ہو اس کی تہہ میں اس قسم کی سازشیں اور شرارتیں کام کر رہی ہیں۔منشی محمد یوسف صاحب اپیل نویس اکیلے اس گاؤں میں بیعت کر گئے تھے لیکن وہ مردان میں رہتے تھے اور ایک قانون پیشہ اور ذکی اور ذی وجاہت ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کے اثر سے محفوظ تھے۔پھر جب ان کے بھائی محمد یعقوب صاحب