اصحاب احمد (جلد 5) — Page 63
۶۳ سے واقف ہیں۔ہم پانچ بھائی ہیں اور کسی کے ہاں بھی نرینہ اولاد نہیں۔حضور نے پھر کسی اور وقت آپ کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ آپ نے جو اس دن بات کہی تھی اس کا میرے دل پر ایسا اثر ہوا کہ جب میں سونے لگتا تو آخری خیال یہی ہوتا اور جب میں بیدار ہوتا تو پہلا خیال یہی ہوتا۔آج تیسرا دن ہے کہ یہی حال ہے۔آپ نرینہ اولاد کے لئے بہت دعا کریں۔مولوی صاحب نے اسی وقت دل میں دعا شروع کر دی۔اس دن یا ایک دو دن کے اندر آپ مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھا کر گھر آئے۔ایک پاؤں دروازہ کے اندر رکھا تھا اور ایک ابھی باہر ہی تھا کہ آپ کو الہام ہوا کہ ہم تمہیں اٹھارہ اکتوبر کولڑ کا دیں گے۔گھر سے اس وقت سوئے ہوئے تھے انہیں جگا کر آپ نے یہ بات سُنا دی۔اُن دنوں آپ عصر کے بعد مسجد اقصیٰ میں قرآن مجید کا درس دیا کرتے تھے۔اس میں بھی آپ نے یہ بات سُنا دی۔ایک دوست نے رقعہ لکھا کہ ایسی باتیں بڑے ابتلاء کا موجب ہو جاتی ہیں۔اس لئے لوگوں کو نہیں سُنانی چاہئیں۔آپ نے جواب دیا کہ میں نہ نبی ہوں اور نہ مامور۔چاہے تو اللہ تعالیٰ میری بات کو پورا کرے چاہے نہ کرے، اس سے ابتلاء کیوں آنے لگا۔ابتلاء تو نبی کی بات پر آتا ہے۔بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات پوری ہوگی اس کے بعد آپ کے ذہن سے یہ الہام اتر گیا۔۱۷۱۸ کتو بر کو آپ صبح کی نماز مسجد اقصیٰ میں پڑھا کر گھر آئے۔عین اس وقت جبکہ آپ کا ایک قدم گھر کے اندر تھا اور ایک باہر۔آپ کو الہام ہوا کہ آج ہمارا سلطان بھی آتا ہے اور تفہیم یہ ہوئی کہ لڑکا ہوگا۔گھر میں آپ داخل ہوئے اور بھاگ بھری نام ہمسائی نے مبارکباد دی کہ لڑکا ہوا ہے۔آپ نے حضرت خلیفتہ المسیح اول کی خدمت میں عرض کیا کہ میرے گھر سے خواب دیکھا تھا کہ اگر تمہارے ہاں لڑکا ہو تو ناصر نام رکھنا حضور نے فوراً فرمایا کہ ناصر نام رکھ لیں۔پھر مولوی صاحب نے اپنا دوسرا الہام سنایا تو فرمایا الہام خواب سے مقدم ہوتا ہے اس کا نام سلطان ناصر رکھ لیں اور فرمایا کہ سب کچھ ہوا لیکن سیدوں والی کوئی بات نہ ہوئی۔یعنی علی یا حسین نام میں نہیں آیا اور تھوڑی دیر سوچ کر فرمایا کہ سلطان محمد ناصر نام رکھ لیں۔آپ کے ہاں دوسرا بیٹا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ الہ تعالی کے عہد میں اس مکان میں پیدا ہوا جس میں آج کل آپ کی رہائش ہے اور جو دار الانوار کی سڑک پر جلسہ سالانہ کے لنگر خانہ کے سامنے ہے کہ آپ نے حضور کی خدمت میں نام کے لئے عرض کیا تو حضور نے دریافت کیا آپ کے کسی لڑکے کا نام صلاح الدین تو آج کل درویشی دور میں ۱۹۴۸ء سے یہ جگہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جلسہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔مؤلف