اصحاب احمد (جلد 5) — Page 65
نے بھی بیعت کر لی تو ان شریروں کو موقع مل گیا کہ ان کو تنگ کریں۔گاؤں والے تو شایدان سے تعرض نہ کرتے مگر بعض شریروں کے اشتعال سے آخر جاہل لوگ تو تھے ہی ، مخالفت پر اُٹھے اور یہاں تک مخالفت سے کام لیا کہ اگر مقابل میں حضرت اقدس مسیح موعود کا مرید نہ ہوتا ( جوصبر اور برداشت کی تعلیم پر آپ کے حکم سے پابند کئے جاتے ہیں ) تو ممکن تھا کہ اشتعال طبع پیدا ہو کر نقص امن ہو جا تا مگر ہم منشی محمد یعقوب صاحب کو مبارکباد دیتے ہیں کہ انہوں نے مخالفوں کے ہر قسم کے جور و ستم سہہ کر اپنے طرز سے ثابت کر دکھایا کہ وہ ان تکلیفوں اور مشکلات کی ایک پر کاہ کے برابر بھی پرواہ نہیں کرتے۔بہر حال جب ان کو حد سے زیادہ تنگ کیا گیا۔یہاں تک تجویزیں کیں کہ سقہ ، دھوبی ، بھنگی وغیرہ لوگ ان کے کام نہ آئیں۔تو انہوں نے منشی محمد یوسف صاحب اپیل نولیس کو اطلاع دی۔انہوں نے مردان سے آکر ان مخالفوں کو مناسب طریق پر سمجھایا اور ان کی ان تکالیف پر جو وہ دے رہے تھے قانونی چارہ جوئی بھی کرنی چاہی لیکن آخر یہ فیصلہ فریقین کی طرف سے ہوا کہ مسائل متنازعہ کا فیصلہ ہو جائے۔منشی محمد یوسف صاحب نے اس کو منظور کر لیا کیونکہ وہ شوق سے چاہتے تھے کہ کسی طرح پران لوگوں کو تبلیغ ہو جائے۔وہ دارالامان آئے اور حضرت اقدس سے انہوں نے اپنے اس منشا کو عرض کیا۔حضرت اقدس نے حسب معمول مخالف علماء کے مکر و حیل سے ان کو مطلع کیا اور فرمایا کہ ایسے مباحثات سے فائدہ نہیں ہوتا۔مگر منشی صاحب کے اصرار پر حضرت اقدس نے منظور کر لیا کہ مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب وہاں چلے جائیں اور جیسا کہ منشی صاحب نے ظاہر کیا کہ تبلیغ ہو جاوے گی۔کچھ وعظ کریں گے۔یہی غرض ان کی روانگی میں رکھی گئی۔الحکم مورخه ۳۰ / نومبر ۱۹۰۲ء۔نیز ۲۴ ا کتوبر ۱۹۰۲ء کے دربار شام میں مذکور ہے:۔برادرم مکرم محمد یوسف صاحب اپیل نویس نے اپنے گاؤں میں بعض لوگوں کی شرارت رفع کرنے کے واسطے بعض احباب کو حضرت اقدس کے ایما سے لے جانا چاہا۔اس کی یہ تجویز ہوئی کہ مولوی عبداللہ صاحب اور مولوی سید سرور شاہ صاحب کو بھیجا جاوے۔‘ا