اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 442 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 442

۴۴۷ اقدس نے فرمایا کہ آپ جا کر کیا کریں گے یہاں ہی رہئے۔اکٹھے چلیں گے آپ کا یہاں رہنا باعث برکت بقیہ حاشیہ: - "بات ٹلی نہیں بلکہ بڑھتی چلی گئی اور دونوں طرف ضدسی قائم ہوگئی۔۔۔۔میرے نانا مرحوم استاد پنجاب حافظ عبدالمنان صاحب۔۔۔۔فرمایا کرتے تھے کہ کاش شاء اللہ ضد چھوڑ دے۔۔۔۔صرف اتنی سی بات پر سب اس کے مخالف ہورہے ہیں۔“ (صفحہ ۳۷۰) نیز لکھا ہے۔اگر سلطانی فیصلہ کے مطابق اربعین جلا دی جاتی اور مولوی ثناء اللہ بھی تفسیر کے دوسرے ایڈیشن میں مسئلہ کی اصلاح کر دیتے تو قصہ ختم ہو جاتا مگر اربعین والوں نے نہ اربعین جلائی نہ ثناء اللہ کا قصور معاف کیا بلکہ واپس آنے پر علماء نجد و حجاز کے مزید فتاوی حاصل کر کے شائع کئے جس کے جواب میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے بھی لکھا کہ یہ عقیدہ صرف میرا ہی نہیں فلاں فلاں امام کا بھی یہی عقیدہ ہے۔(صفحہ ۳۸۰) پھر اس کے بعد جب مولانا حافظ عبداللہ صاحب روپڑی فریق ثانی کے ہائی کمانڈ کی حیثیت سے آپ کے سامنے آئے اور اس جھگڑے نے جماعت میں بہت اختلاف پیدا کر دیا اور جماعت کے مختلف افراد نے مختلف حیثیتوں سے بار بار اسے مٹانے کی کوشش کی کبھی نیاز مند نے جدو جہد کی کبھی مولانا محمد دہلوی ،مولانا ابوالقاسم بنارسی بیچ آئے کبھی امرت سر معاہدہ ہوا اور کبھی بٹالہ میں کبھی اہلحدیث کا نفرنس فتح گڑھ میں مولانا عبدالقادر صاحب قصوری نے کوشش کی اور کبھی خواجہ عبدالحی صاحب مگر نتیجہ ہر بار ہی ڈھاک کے تین پات ہی نکلا۔66 ۱۹۴۰ء میں مولوی صاحب نے تسلیم کیا کہ میں حدیث صحیح کی تفسیر اور تفسیر صحابہ کو تشریح محدثین مقدم جانتا ہوں۔“ گویا آپ کے ہم فرقہ علماء کے ایک طبقہ کی نظر میں آپ پہلے اس پر عمل پیرا نہ تھے۔۱۹۰۳ء سے ۱۹۴۰ء تک سینتیس سالہ کچا چٹھا احباب پڑھ چکے۔اس تنازع کا مستقل اثر نہایت نقصان دہ نکلا جس کا ذکر آگے آئے گا۔اس تنازع کے دوران اس ” مامور“ کا یہ حال تھا کہ تفسیری مسائل (کے) باعث مولانا ابوالوفاء اور خاندان غزنویہ کا مسلک ایک تھا اور دونوں ایک ہی لڑی کی موتی تھے مگر باہمی رنجش کچھ ایسی صورت اختیار کر چکی تھی کہ بعض اوقات ان کے درمیان سلسلہ کلام و سلام بھی منقطع ہو جاتا تھا۔جماعت اہلحدیث کے اکثر ارکان واکابر کواس کی خبر تھی کئی بار انہوں نے اس