اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 441 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 441

۴۴۶ پیرانہ سالی میں بھی چند دنوں سے گورداسپور آئے ہوئے تھے۔آج انہوں نے رخصت چاہی جس پر حضرت بقیہ حاشیہ: - مضامین بھی لکھ دیا کرتے۔مولانا حافظ عبداللہ روپڑی نے متعدد اساتذہ سے تحصیل علوم کی۔عربک کالج دہلی سے مولوی فاضل کیا۔اخبار تنظیم اہلحدیث بھی شائع کرتے رہے۔طبیعت زہد و ورع کی طرف زیادہ مائل ہے۔فتاوی بہت تحقیق اور علمی انداز سے لکھتے ہیں مشکوۃ کی شرح بھی لکھ رہے ہیں خدا تکمیل کی توفیق ارزانی کرے۔“ فیصلہ شاہ ابن سعود وعلماء ان علماء کرام نے جن کے زہد و ورع۔عدم ریاء علم وفضل اور تقویٰ کا اعتراف خود مولوی ثناء اللہ صاحب کے سیرۃ نگار کو ہے اور وہ لکھتا ہے کہ یہ سب اس معاملہ کو طول دیتے رہے اور حافظ عبداللہ نے مذکورہ اربعین کو عربی جامہ پہنایا اور سلطان ابن سعود اور علماء نجد سے داد خواہی چاہی۔غزنوی صاحبان کی سعی مشکور سے سلطان نے اس بارہ میں ایک مجلس طلب کی جس میں عام علماء کے علاوہ علامہ سید رشید رضا مصری ، شیخ عبداللہ قاضی القضاة (چیف جسٹس حجاز ) امام حرم و غیرہ پانچ خاص علماء بھی مدعو تھے۔مولوی ثناء اللہ بھی موجود تھے۔شاہ ابن سعود نے فیصلہ میں لکھا کہ اس امر پر اتفاق ہوا کہ ثناء اللہ آیات صفات میں سلف کی طرف رجوع کریں۔چنانچہ انہوں نے اقرار کیا کہ وہی حق ہے۔میں آئندہ اپنی تفسیر میں یہ لکھ دوں گا اور یہ بھی طے ہوا کہ شیخ عبدالواحد غزنوی اور ان کے ساتھیوں نے جو طعن و تشنیع لکھی ہے اس سے رجوع کریں اور اربعین جو جلا دیں سب نے تجدید اخوت کا اقرار کیا۔سيرة نگار جو آئندہ مناقشات و مصالحات سے بکلی واقف ہے بلکہ اس بارہ میں کوشاں رہا ہے بیان کرتا ہے۔اس فیصلہ کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ یہ جھگڑا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتا مگر افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔۔۔دوسر ا گر وہ جس کے قائد مولوی اسمعیل بن مولانا عبد الواحد غزنوی تھے اپنی ضد پر ڈٹا رہا اور آتے ہی فیصلہ مکہ کے نام سے ایک رسالہ لکھا جس نے جلتی پر تیل کا کام دیا۔۔۔( صفحه ۳۷۹ تا ۳۸۰) ثناء اللہ کی ضد مولوی ثناء اللہ صاحب ضدی تھے۔ان کے استاد حافظ عبدالمنان صاحب کی یہی رائے تھی۔چنانچہ سیرت نگار لکھتا ہے۔