اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 435 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 435

۴۴۰ حضور کے سفروں میں رفاقت آپ کو حضرت اقدس کے بعض سفروں میں رفاقت بھی میسر آئی۔چنانچہ ۱۵ جنوری ۱۹۰۳ ء کو حضور بمقدمه کرم دین جہلم تشریف لے گئے اور آپ بھی ہمراہ تھے۔یہ اسی مقدمہ میں آپ گورداسپور بھی جاتے رہے اور کئی خدمات مثلاً حوالے نکالنے اور کھانا پیش کرنے کی توفیق پاتے رہے ۲۶ جنوری کی بابت البدر میں مندرج ہے۔رفقاء میں حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید بھی تھے۔حضور ۱۹ جنوری کو مراجعت فرما ہوئے۔کلے ہلے ہی ۴۰-۲-۱۴ کو اسی مقدمہ کے سلسلہ میں مولوی صاحب کا گورداسپور جانا روایات میں میں نے درج کیا ہے۔بقیہ حاشیہ: - (ب) یہی سیرت نگار لکھتا ہے کہ بارہا مولوی صاحب کے مضامین کی بدولت کئی مرزائی تائب ہو جاتے یا کم از کم ”مرزائیت سے نفرت کرنے لگ جاتے۔(صفحہ ۲۶۷) لیکن یہ کذب بیانی اس امر سے ثابت ہے کہ چار صد سولہ صفحہ کی سوانح حیات میں اس ”فتح“ کی ایک معین مثال ہی’ اہلحدیث یا کسی ہمعصر لٹریچر سے پیش نہیں کی۔(ج) ایک مقام پر لکھا ہے کہ ضلع شیخوپورہ میں حافظ روشن علی صاحب جماعت احمدیہ کی طرف سے مناظر تھے۔کسی نے کہا کہ اگلے ہی روز مالیر کوٹلہ میں حافظ صاحب نے مولوی ثناء اللہ سے مناظرہ میں شکست کھائی ہے۔آج کس منہ سے آرہے ہیں۔مولوی مذکور نے کہا کہ وکیل ایک مقدمہ میں ہار جائے تو اس کی اپیل میں یا کسی دوسرے مقدمہ میں پیش ہو سکتا ہے حافظ صاحب نے کہا درست ہے۔اس مناظرہ میں چھ افراد نے احمدیت ترک کی۔(صفحہ ۳۳۵ تا ۳۳۷) اس کا غلط ہونا ظاہر وباہر ہے۔مناظر ایسا اقرار کر کے پھر مناظرہ ہی کیوں کرے گا۔(1) احمدیت کو اسلام کے لئے آریہ سماج سے کہیں زیادہ نقصان پہنچانے والا قرار دیتا ہے صفحہ ۱۶۸ تا ۱۶۹) حالانکہ ثناء اللہ کے استاد کے استاد مولوی محمد حسین بٹالوی نے حضرت مرزا صاحب کو مسلمان قرار دیا ہے۔(ھ) احمدیت کی طرف ایسے عقائد منسوب کئے ہیں جو سرے سے غلط ہیں۔احباب کرام اسی سے اندازہ کر لیں کہ افتر اپردازی اور کذب بیانی میں سیرت نگار کس قدر ید طولیٰ رکھتا ہے۔مثلاً