اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 434 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 434

۴۳۹ شیر به نظر غیر بطل جلیل و حریف ذلیل وہ کون سا مباحثہ تھا کہ جس کے ذکر سے فریق مخالف عمر ترساں ولرزاں اور اس کے خلاف اس واقعہ ہائلہ کا ذکر کرنے سے بدکتے ہیں؟ یہ تھا مباحثہ مد! اس میں آپ کا حریف کون تھا؟ چوٹی کے علماء ہند کا مایہ ناز شاگرد، جو علوم دینیہ ومعقول و منقول کی انتہائی تعلیم حاصل کر چکا تھا۔پانچ سال زیادہ مطالعہ کا موقع پانے والا۔دستار فضیلت جس کے زیب سر ہو چکی تھی۔فن مناظرہ میں اپنے اساتذہ اور اپنے فرقہ کے نزدیک نہایت صاحب کمال و یکتا ! دیکھا اس اکھاڑے کا رنگ کیا رہا؟ ایسے غیر معمولی قوتوں کا مالک گویا رستم کو پہلوان حضرت رب جلیل کے ایک علمبر دار نے یوں سرمیدان چاروں شانے چت گرایا کہ اس شکست فاش کے اثرات مرور زمانہ سے نہ مٹنے تھے اور نہ مٹے۔احمدیت کے بطل جلیل کے سامنے اس کا حریف ثناء اللہ مخذول و ذلیل ہوا۔م سیرت ثنائی مولوی ابوالوحید عبدالحمید خادم سوہدروی نے سیرۃ ثنائی کے نام سے مولوی ثناء اللہ صاحب کی سوانح حیات چار صد سولہ صفحات پر مشتمل ۱۹۵۲ء میں شائع کی۔مؤلف سیرۃ مولوی صاحب کے پرست ایک استاد کا نواسہ ہے اس نے مولوی صاحب کی یادگار کو قائم رکھنے کے لئے ان کا اخبار اہلحدیث بھی از سر نو جاری کر رکھا ہے اور بھی بہت کچھ کر رہا ہے۔ان کی مدح و توصیف میں رطب اللسان ہے نہایت قریب کا تعلق رکھنے والا ہے اپنے فرقہ میں معتمد و معتبر ہے۔اس حاشیہ کے آخر پر جو مفید نتائج ہم پیش کریں گے وہ اسی سیرۃ میں مندرجہ واقعات سے ماخوذ ہوں گے اور دو اور دو چار کی طرح یقینی اور قطعی اور شبہات سے بالا ہوں گے۔سیرت نگار کا احمدیت سے بغض اور مبالغہ آرائی لیکن یہ بیان کرنا ضروری ہے کہ سیرت نگار کو احمدیت سے اس قدر بغض ہے کہ اس کے متعلق وہ دیانت کی تمام حدود کو پھاند گیا ہے اور اس تعلق میں اسے نہ خوف خدا ہے نہ فکر عقبی۔متعدد مقامات پر اس کی علمی کم مائیگی بھی ظاہر ہوتی ہے مثلاً (1) دعوت مباہلہ کے متعلق کہتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے ”سبز اشتہار شائع کیا۔گویا اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ سبز اشتہار کیا تھا۔(صفحہ ۱۷۲)