اصحاب احمد (جلد 5) — Page 436
اعلیٰ حضرت حجتہ اللہ سیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مہمان نوازی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرح بقیہ حاشیہ: (1) اللہ تعالیٰ ہی خالق نہیں۔میرزا بھی خلاق وضاع ہے۔اس نے آدم کو بنایا۔ارض وسماء پیدا کئے کائنات اور مخلوق بنائی۔اور اس طرح تخلیق عالم میں وہ خدا کا شریک وحصہ دار ہے۔(صفحہ ۱۲۷ تا ۱۲۸) (۲) آپ کی کتب صحف آسمانی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ان کا درجہ قرآن کے برابر ہے۔خدا نے جو عرفان مرزا کو دیا وہ دیگر انبیاء و مرسلین کو نہیں دیا گیا۔“ (صفحہ ۱۶۸) (۳) ”جناب نبی کریم علیہ السلام کو روحانی معراج ہوئی۔لیکن مرزائے قادیان اس جسم عنصری کے ساتھ عرشِ عظیم پر گیا“۔(صفحہ ۱۶۷) (۴) " تو حید کا مسئلہ غلط ہے سورہ اخلاص عبث، نا قابل قبول اور بے بنیاد ہے۔اور قـل هـو الله احد الله الصمد لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد کی آیات بینات بے سروپا ہیں۔اس لئے کہ مرزا خدا کا شریک اور ساجھی ہے خدا کا باپ اور بیٹا ہے۔اس نے خدا کو جنا۔خدا نے اس کو جنا۔وہ خدا کی نسل سے ہے خدا اس کے خاندان سے ہے“۔(صفحہ ۱۶۷) مولوی صاحب جیسے ” مامور “ کا جسے ان کی سیرت میں مسیحا بھی ایک نظم میں کہا گیا ہے ان کی مسیحائی اس سے ظاہر ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی ۱۴ اپریل ۱۹۲۰ء کو امرتسر میں زیر صدارت محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی تقریر تھی کہ حضور کوٹو کا گیا۔گالیاں دی گئیں اور شور برپا کیا گیا۔حضور نکلے تو اینٹ ماری گئی اور سخت گندی گالیاں دی گئیں اور قیام گاہ میں لوگ دیوار پھاند کر آ گھسے۔حضور اس وقت جاچکے تھے۔ان لوگوں نے اشیاء تو ڑ دیں اور لوگوں نے مولوی ثناء اللہ کو مبارک باد دی کہ ان کے شاگرد نے خوب کام کیا۔۱۸ (1) مولوی صاحب کو بہت صاحب اثر ورسوخ بتانے کے لئے سیرت نگار نے جھوٹ جیسی غلاظت کو کھایا چنانچہ لکھا ہے۔(1) بارہا ایسا بھی ہوا کہ ان مضامین کی بدولت کئی مرزائی تائب ہو کر اسلام قبول کر لیتے یا کم از کم مرزائیت سے نفرت کرنے لگ جاتے۔“ (صفحہ ۲۶۷) (۲) ۱۹۳۵ء میں میرٹھ میں کامیاب مباحثہ سے اس علاقہ میں ایک حد تک احمدیت کا قلع قمع ہو گیا۔( صفحه ۳۶۲) کذب بیانی میں ہٹلر کے دست راست گوبلز کو بھی مات دکھائی ہے۔تقسیم ملک تک ہزار ہارو پیہ بطور چندہ بشمول میرٹھ اس علاقہ سے آتا رہا۔اس پر جماعت کا مطبوعہ ریکارڈ شاہد ہے۔وہ کون دیتا تھا؟ اردگرد کے