اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 349 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 349

۳۵۴ کہ میں نے بیعت کر لی ہے۔اور فرمایا کہ آپ کا نام میں نے ( بیعت کنندگان میں ) اخبار میں پڑھا تھا۔آپ پانچ بھائی تھے جن میں سے چار احمدی تھے۔آپ کے والد حضرت اقدس کی کتابوں سے واقف تھے اور ان کا بڑالڑ کا بھی واقف تھا مگر یہ دونوں باپ بیٹا کھلے طور پر احمدی نہ تھے مولوی صاحب حضرت اقدس کے حکم سے جمعہ بھی پڑھایا کرتے تھے۔مسجد مبارک میں خاکسار نے ان کا خطبہ سنا اور حضرت اقدس نے ان کی اقتداء میں جمعہ ادا کیا۔حضرت اقدس ان سے بوجہ ان کے علم کے بہت محبت رکھتے تھے۔افیم چھوڑنے سے یہ سخت بیمار ہو گئے تھے۔ابھی نقاہت شامل حال تھی کہ مسجد مبارک میں نماز کے لئے تشریف لائے۔حضرت اقدس نے ان کی حالت دیکھ کر فرمایا آپ آہستہ آہستہ چھوڑتے یکدم ایسا کیوں کیا۔عرض کی۔حضور ! جب ارادہ کر لیا تو یکدم ہی چھوڑ دی۔ہزارہ اور شمالی کشمیر کے قبائل آپ کے خاندان کے پیرو تھے۔جنہوں نے ان کے بزرگوں کو زمینیں نذر کی ہوئی تھیں۔مولوی صاحب کا ان قبائل میں بڑا پایہ تھا۔مگر آپ نے حق پہچان کر سب کچھ ترک کیا اور نوکری بھی چھوڑ دی۔اگر چہ لوگوں نے آپ کو کہا کہ نوکری جاری رکھیں مگر آپ نے نہ مانا۔پشاور جا کر قریباً سوروپیہ کی نوکری اختیار کر لی۔مگر جب قادیان پہنچے تو حضرت اقدس کے منشاء کو مقدم رکھ کر یہ معقول مشاہرہ والی ملازمت بھی ترک کر دی۔آپ قادیان میں ہائی سکول میں پڑھانے لگے۔اور چودہ یا پندرہ روپے ماہوار تنخواہ لیتے تھے اور گوردوارہ کے جنوب کی جانب چار آنہ کرایہ کے ایک معمولی مکان میں رہائش تھی۔سبحان اللہ نفس کشی اور انتہائی قربانی ( جو عوام کی نظروں میں گویا خود کشی کے مترادف تھی) ان بزرگوں کی تھی۔اللہ تعالیٰ کے مامور کی صحبت میں رہنے کے لئے بہترین آرام چھوڑا۔دنیوی فوائد اور عز تیں ترک کر دیں۔اور ملک اور اراضی کو پیچ سمجھا۔اللہ تعالیٰ ایسے بزرگوں پر بے شمار رحمتیں نازل کرے۔آمین۔۲- از اخویم سید محمد ہاشم صاحب بخاری فاضل بی۔اے سیکنڈ ماسٹر پنشنر حال مجاھد کماسی ( غانا۔مغربی افریقہ ) تحریر کرتے ہیں۔یہ فخر میرے لئے بہت بڑا فخر ہے کہ میں نے اس فرید الدھر عالم دین سے جس کی تجر علمی کے قائل اس کے اساتذہ بھی تھے علم حاصل کیا۔حضرت نے ایک مرتبہ خود مجھے سنایا کہ دارالعلوم دیوبند میں حضرت شیخ الہند مولانامحمود الحسن صاحب اسیر مالٹا نے قرآن مجید کے پرچے ایک امتحان میں دیکھے۔پرچے کے نمبر ایک سو تھے۔مولانا نے مولوی سرورشاہ صاحب کے پرچہ کے متعلق کہا کہ صرف ایک سو نمبر دینا مولوی صاحب کے