اصحاب احمد (جلد 5) — Page 348
۳۵۳ تاثرات احباب حضرت مولانا مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے متعلق احباب کے تاثرات جوانمول اور ایمان افروز سوانح پر مشتمل ہیں ھدیہ قارئین کئے جاتے ہیں۔ا- از محترم مولوی محمد جی صاحب فاضل سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان حال مقیم ربوہ۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے لئے ہر خطہ اور ہر ملک کے بہترین چیدہ اشخاص بطور رفیق انتخاب کئے تھے۔مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب حضرت سید شاہ محمد غوث لاہوری کے بر دار کلاں سید شاہ میر زین العابدین بن سید حسن پشاوری کی اولاد سے ہیں۔سید زین العابدین کو رجب ۱۱۹۵ھ میں آزاد خان درانی نے جبکہ ہزارہ صوبہ کشمیر میں شامل تھا لنگر کے لئے موضع سلطان پور مع ملحقات جاگیر میں دیا تھا۔اور جب ہزارہ کشمیر کے صوبہ سے الگ ہوا تو صوبہ خاں والئے تناول نے ۲۳ صفر ۱۲۲۱ھ (مطابق ۱۳مئی ۱۸۰۶ء) کو مواضع ما نگل وغیرہ جاگیر میں دیئے۔قبائل سرارہ کر لال۔توکی و دیگر افغان قبائل اور شمال مغربی کشمیر کے قبائل کو آپ کے خاندان سے ارادت تھی۔میرے بچپن کے زمانہ میں جب میرے وطن داتیہ ضلع ہزارہ میں جماعت احمدیہ کا پودا جڑھ پکڑ گیا تو آپ اپنے ہمنام پھوپھی زاد بھائی کے پاس آئے میں بھی ان کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔لوگوں نے ان کو ایک احمدی سے علمی بات کرنے کو کہا۔آپ نے تحقیر کر کے بحث کو ٹال دیا۔مگر آر کی قسمت میں سعادت تھی۔آپ ان دنوں ایبٹ آباد کی جامع مسجد کے قاضی تھے۔ان کا ایک طالب علم محمد عرفان نام تھا۔دورانِ سبق میں اس نے آپ سے حیات مسیح پر گفتگو شروع کر دی۔اس طالب علم کو موضع دانته سے بھی مدد ملنے لگی۔جب مولوی صاحب لا جواب ہوئے تو وہ طالب علم قادیان پہنچا اور حضرت اقدس کے ہاتھ پر بیعت کر کے واپس ہوا اور مولوی صاحب سے نہ ملا۔اور ناڑہ کے علاقہ میں کسی گاؤں کا قاضی (امام مسجد ) بن گیا۔مولوی صاحب کی فطرت اب بیدار ہو چکی تھی۔مولوی صاحب کشمیر میں راجہ عطا محمد خان صاحب کے ہاں پھوپھی زاد بھائی کا رشتہ طلب کرنے کے لئے گئے تھے واپسی پر دانہ آئے تو یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے