اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 350 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 350

۳۵۵ پر چہ کی تو ہین ہے اس لئے انہوں نے اس سے بھی زیادہ نمبر دئے۔یہ اعتراف علم تھا جو آپ کے اساتذہ کو آپ کے متعلق تھا۔آپ جب کسی کام کو کرنا چاہتے تو بڑی مستعدی سے سرانجام دیتے۔علاقہ مالکانہ میں تبلیغ کے لئے آپ تشریف لے گئے واپسی پر یہ خیال پیدا ہوا کہ سائیکل کی سواری وقت بچانے میں مدد دیتی ہے چلانا سیکھ لینا چاہئے۔چنانچہ آپ نے رات کو مدرسہ احمدیہ کے صحن میں اس کے چلانے کو مشق بہم پہنچائی۔آپ کو اپنے شاگردوں سے بہت ہمدردی اور محبت تھی۔چنانچہ آپ کے تمام شاگرد یہی سمجھتے تھے کہ آپ اس سے بہت محبت فرماتے تھے آپ مستجاب الدعوات تھے۔میں نے بارہا آپ کی خدمت میں دعا کی درخواست کی اور ہرایسا کام بفضلہ تعالے پورا ہو گیا۔-۳- از اخویم فیض الحق خان صاحب مجاہد بمقام جوس۔نا یجیر یا ( مغربی افریقہ) ۰۵ ۱۹۰۴ء میں میں کمسن تھا۔جب قادیان تعلیم پانے کے لئے آیا۔غالبا ان دنوں حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب بورڈ نگ تعلیم الاسلام ہائی سکول کے سپرنٹنڈنٹ تھے اس وقت آپ کی صحت نہایت اچھی تھی۔سر اور داڑھی کے بالوں میں حنا کا باقاعدہ استعمال کرتے آپ کے بال نہایت نرم تھے اور ان کا رنگ نہایت عمدہ ہوتا اور چمکیلے ہوتے۔لوگوں کے بقول آپ کا چہرہ مبارک سیب کی طرح سرخ تھا۔آپ بورڈنگ میں دفتری امور چار پائی پر بیٹھ کر ہی انجام دیتے تھے۔نمازوں میں آپ کی باقاعدگی معروف ہے۔کیا مجال جو کوئی نماز بغیر مسجد مبارک کے ادا ہو۔بورڈران کو بھی آپ نہایت اہتمام کے ساتھ قطار میں بالعموم اپنی نگرانی میں مسجد اقصیٰ میں لے جاتے اور واپس لاتے۔نظم وضبط میں سخت تھے اور ختی سے باز پرس فرماتے۔آپ مسجد اقصیٰ کے امام الصلوۃ تھے۔چونکہ آپ نہایت احتیاط سے قرآت فرماتے اس لئے نماز اکثر لمبی ہو جاتی اور طلباء جن کی اکثریت چھوٹی عمر کے بچوں پر مشتمل تھی تھک جاتے۔اور کوشش کرتے کہ کسی طرح مسجد نہ جانے کی صورت نکل آئے مگر حضرت مولوی صاحب کم ہی ایسے عذرات پر توجہ فرماتے۔آخر عمر تک آپ کی جسمانی صحت نہایت عمدہ رہی اور چہرہ کی وہی شگفتگی اور نماز با جماعت کا وہی اہتمام۔آپ تقریر کے وقت عموماً ایک ٹانگ پر قیام کرنے کی عادت رکھتے تھے۔ایک پاؤں دوسری ٹانگ کے گھٹنے پر رکھ لیتے اور آپ کی تقریر کے متعلق یہ عام مشہور تھا کہ دو گھنٹے سے کم نہ ہوگی۔اور ایک گھنٹہ کے بعد دوسرا پاؤں بدلیں گے۔قرآن مجید اور دیگر علوم سے اس قدر بہرہ وافر پایا تھا کہ آپ بحر بیکراں نظر آتے تھے اللہ تعالیٰ غریق رحمت کرے اور بلند درجات عطا فرمائے۔آمین۔