اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 641 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 641

۶۴۷ صدیوں سے اس فضل کی دونوں شاخیں ہماری قوم سے چھن چکی ہیں۔اور روز بروز ہم خدا سے دور ہوتے جاتے ہیں۔اور اپنی حالت میں کوئی تبدیلی ہم ایسی نہیں پیدا کرتے جس سے اس فضل کے دوبارہ پانے کی پھر امید ہو سکے۔لیکن تاہم وہ سید الرسل سے اسی وجہ سے مخالفت کرتے تھے کہ وہ اسرائیلی نہیں۔اور ہونا بنی اسرائیل سے چاہئے۔اور اپنے اس خیال کی تائید میں کہا کرتے تھے کہ حضرت یعقوب کی دعا ہے کہ ہمیشہ نبوت میرے ہی خاندان میں رہے تو ان کے اس خیال کی تردید کے لئے خداوند کریم اس نعمت کو بار ثالث یاد دلا کر یہ بتائے گا کہ حضرت یعقوب کے جد امجد ابوالحفاء ابراہیم نے بھی اس فضل کی نسبت خدا وند کریم سے دعا کی تھی کہ میری ذریت میں رہے تو جواب یہی ملا تھا کہ لَا يَنَالُ عَهْدِی الظَّلِمِینَ۔۹۵ یعنی میں اس فضل کا عہد کرتا ہوں پر ظالم لوگ اس سے محروم رہیں گے۔تین ہی محل پر پہلے ان کو ندا سے متوجہ کیا ہے اور پھر بنی اسرائیل سے ان کو یا دفرمایا ہے۔جس میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ تم تو خدا کے اس بہادر سپاہی کے بیٹے ہو جو کہ خدائے قدوس کے فضل کے حاصل کرنے اور کرانے میں اور عذاب اور قہر الہی سے بچنے اور بچانے میں اور دلائل اور نشانات کے بعد حق کے ماننے اور منوانے میں بڑی بہادری سے شیطان اور نفس اور قوم اور رسم وعادت کا مقابلہ کرنے والا اور وحدہ لاشریک کے سوا کسی دوسرے کا ہرگز ہرگز خوف اور ڈر نہ رکھتا تھا۔پس جب اپنے سب معاملات میں اسرائیلیت کو مد نظر رکھتے ہو تی کہ سید الرسل کا انکار بھی اسی وجہ سے کر رہے ہو کہ وہ اسرائیل کے گھرانے سے نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ خدا کے فضل کے لینے اور اس کے عذاب شدید اور مہین سے بچنے میں اور باوجود روشن ترین دلائل اور نشانات پانے کے بعد حق کے مان لینے اور لوگوں کے خوف اور دنیا کے قلیل منافع کے رکنے کے خطرہ کی نہ پرواہ کرنے میں تم اسرائیل کے نقش قدم پر نہیں چلتے ہو۔حالانکہ وہ انہی امور میں بہادری اور جوانمردی دکھانے کے باعث خداوند کریم کے دربار میں اسرائیل ( خدا کا بہادر سپاہی) کے نام سے پکارا گیا تھا۔-2 وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِى نَفْسٌ شَيْئًا وَّلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَا عَةٌ وَّ لَا يُؤْخَذْ مِنْهَا عَدْلٌ وَّلَاهُمْ يُنصَرُون - (البقرہ ع۶) کی تفسیر میں آپ فرماتے ہیں۔وَاتَّقُوا يَوما کی تفسیر میں سب مفسرین نے لکھا ہے کہ یوم یعنی دن سے بچنے کے کچھ معنے نہیں ہو سکتے۔لہذا یہاں پر عذاب کا لفظ مقدر ماننا چاہئے۔گویا اصل عبارت یوں ہے کہ وَاتَّقُوا عَذَابَ يَوْمِ لیکن یہ نہیں لکھا کہ پھر خدائے حکیم نے بجائے عَذَابَ يَوْم يَوْمًا کیوں فرمایا اصل بات یہ ہے کہ بعض مقام تو ایسے ہوتے ہیں کہ زبان عرب میں عام طور پر وہاں پر کوئی چیز مقدر ہوتی ہے ایسے کلام میں جو تقدیر ہوتی ہے وہ تو کلام