اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 640 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 640

۶۴۶ ہو جائے پس حق یہ ہے کہ حیاء ایک حالت کا نام ہے جس کو سب انسان بخوبی جانتے ہیں۔اگر چہ اس کی حقیقت کو بیان نہیں کرتے۔اور امام راغب نے جو اس کی انقباض النفس کے ساتھ تفسیر کی ہے یہ اس کے معنے نہیں بلکہ انسانوں میں اس کے معنے حاصل ہونے کا طریق بتایا ہے تو جو اصل معنے ہیں وہ جیسے انسان میں پائے جاتے تو ہیں ویسے ہی خدائے قدوس میں بھی پائے جاتے ہیں اور جو نہیں پائے جاتے وہ ان کے انسانوں میں حاصل ہونے کے طریق یا ان کے عوارض میں سے ہیں پس خداوند کریم کی طرف استحیاء کے نسبت کرنے میں نہ کوئی اعتراض ہے اور نہ تاویل کی ضرورت ہے۔“ ٢ - يُبَنِي إِسْرَاءِ يُلَ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ الَّتِى اَنْعَمْتُ عَلَيْكُمْ وَإِنِّى فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعَالَمِينَ۔وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ۔(البقرہ ع۶) کے متعلق تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ یہاں پر یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ اس نعمت کو ابھی بنی اسرائیل کو یاد دلایا تھا تو پھر عنقریب ہی دوبارہ اس کے یاد دلانے کی کیا وجہ ہے پس واضح ہو۔تین طور پر اس کا ذکر ہو سکتا ہے یا ہونا چاہئے تھا۔۔۔اول۔اس بات کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے کہ دیکھو اور یاد کرو کہ یہ عظیم الشان فضل تم پر اسی وجہ سے تو ہوا کہ تم خدا کے فرستادوں کے متبع تھے۔لہذا خداوند کریم نے اس اتباع اور صادقوں کی معیت سے تم پر دینی اور روحانی فضل۔۔۔۔اور دنیوی اور جسمانی فضل کیا تم خوب جانتے ہو کہ خداوند کریم نے تم سے یہ عہد کیا تھا کہ جب ایک وقت میں تمہاری ایمانی اور اخلاقی اور اعمالی حالت بہت خراب ہو جاوے گی تب یہ نبوت اسرائیلی گھرانے سے نکال کر تمہارے بھائی اسمعیل کے گھرانے میں رکھی جاوے گی تو جو بنی اسمعیل میں میرا برگزیدہ مبعوث ہو اس کی اگر تم اتباع کرو گے تو تم پر بڑے بڑے فضل میں کروں گا تو پہلی دفعہ ان کو یہ نعمت یاد دلا کر اس فضل و برکت کی ترغیب دی ہے جو کہ خداوند تعالیٰ کے فرستادہ کی اتباع اور معیت میں ان کو ملنے کا وعدہ تھا اور اس کے ملنے کی تصدیق ان کے گھر میں وہ نعمت تھی جو کہ خداوند کریم نے اس موقعہ پر ان کو یاد دلائی ہے۔اور دوئم اس طور پر کہ جس طرح ان کو انبیاء کی اتباع سے یہ فضل۔۔۔ملا تھا اسی طرح کچھ لوگ انبیاء کی مخالفت کے باعث بڑے عذابوں اور لعنتوں کے مورد بھی بنے تھے پس دوسری دفعہ اس انعام کو اور فضیلت کو اس وجہ سے ذکر فرمایا ہے تا کہ ان کو اس بات کی طرف متوجہ کیا جائے کہ جب فرستادوں کی اتباع اور معیت سے سب کچھ ملا ہے تو پھر ان کی مخالفت سے یہ سب کچھ چھن بھی جاوے گا۔اور اسی طرح تم مورد عذاب ٹھہر و گے کہ جس طرح فرعون وغیرہ ان کی مخالفت سے اس وقت مورد عذاب الیم بنے تھے وہ خوب جانتے تھے کہ یہ نعمت محض فضل کے طور پر ہمیں ملی تھی اور کہ فضل الہی لینے کے لئے ضروری ہے کہ خداوند تعالیٰ کے ساتھ معاملہ اچھا ہو۔اور ہماری قوم کا معاملہ خداوند کریم سے ساتھ اچھا کیا بلکہ بہت بگڑا ہوا ہے اور اسی وجہ سے کئی