اصحاب احمد (جلد 5) — Page 642
۶۴۸ عرب کے لحاظ سے ہوتی ہے۔لیکن جو کلام ایسا نہ ہو وہاں پر اگر کوئی چیز مقدر معلوم ہو تو پھر وہاں پر ضرور غور کر لینا چاہئے کہ جب ایک چیز یہاں پر ذکر ہونی چاہئے تھی۔پس وہ کیوں ذکر نہیں کی۔اور اس کے ذکر کو کیوں ترک کیا گیا ہے۔جو نکتہ اس کے متعلق میرے خیال میں آیا ہے۔وہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم خدائے کریم کے غضب اور عذاب کا طریق اختیار کرتی ہے تو پہلے ایک عرصہ تک خداوند کریم معاف کرتا رہتا ہے جیسا کہ خدا وند کریم نے قرآن مجید میں بیان فرما دیا ہے کہ يَعْفُوا عَنْ كَثِير ( اور بہت معاف کرتارہتا ہے ) لیکن جب وہ قوم با وجود نصیحت سننے اور عبرتیں ملاحظہ کرنے کے پھر بھی باز نہیں آتی تو پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ اس دن اس پر فرد جرم خدائے رحیم کی طرف سے لگ جاتا ہے کہ فلاں دن یہ قوم فلاں عذاب کے ساتھ تباہ وغیرہ ہوگی۔اور فرد جرم لگنے کے دن میں اور عذاب کے دن میں بھی اچھا وسیع زمانہ ہوتا ہے۔اور جس طرح عذاب کے دن میں کسی رشوت اور بدلے اور سفارش وغیرہ سے وہ عذاب نہیں مل سکتا۔اسی طرح جب فرد جرم لگ جاتا ہے تو پھر بھی سفارش وغیرہ اس عذاب ٹلا نہیں سکتی۔اور شریر لوگوں میں سے بہت سے لوگ عموماً ایسے ہوتے ہیں کہ حق ان کو بخوبی معلوم ہو چکا ہوتا ہے۔جیسا کہ فرعون اور اس کی قوم کی نسبت قرآن مجید میں آیا ہے۔وَ جَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنتَهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّ عُلُوا - ۹۶ (انہوں نے انکار کیا ظلم اور تکبر کے لئے حالانکہ ان کے دل ان پر یقین رکھتے تھے یا انہی بنی اسرائیل کے لئے آیا ہے۔يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاء هُمْ - ۹۷ ( یہ اس کو اپنے بیٹوں کی طرح جانتے ہیں) لیکن باوجود اس کے پھر بھی حق کو فور التسلیم نہیں کرتے اور اکثر ایسے ہی ہوتے ہیں کہ زبان سے خواہ کچھ ہی کیوں نہ کہیں پر دل میں عذاب کا ڈر ہوتا اور حق کی تسلیم کا خیال بھی پیدا ہوتا ہے۔لیکن قومی اور دنیوی موانع پر نظر کر کے رک جاتے ہیں اور تاریخیں ڈالتے ہیں کہ فلاں شخص مر جائے یامان جائے یا فلاں امر ہو جائے تو مان لیں گے اور ابھی ان کی تاریخیں ختم نہیں ہوتیں کہ فرد جرم لگنے کا دن آ جاتا ہے۔اور ابھی ان کی تاریخوں کا دائرہ وسیع ہی ہوتا ہے کہ عذاب کا دن آجاتا ہے۔اور تباہ ہوتے ہوئے امَنتُ وغیرہ کہتے ہیں پر آلانَ وَقَدْ عَصَيْتَ مِنْ قَبْل - ) کیا تو اب ایمان لاتا ہے اور پہلے نافرمان بنارہا) ہی کا جواب سننا پڑتا ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ یہاں پر دو دن ہیں۔اول فرد جرم کا دن جس میں یہ امور کام نہ دیں گے اور جس طرح پہلے ہی دن سے یہ امور کام نہیں آسکتے اسی طرح پہلے ہی دن سے توبہ کا دروازہ ایسا ہی بند ہو جاتا ہے۔جیسا کہ عذاب کے دن بند ہوتا ہے۔جیسا کہ قرآن مجید میں صاف طور پر آیا ہے کہ لَقَدْ حَقَّ الْقَوْلُ عَلَى أَكْثَرِهِمْ فَهُمُ لا يُؤْمِنُون - ۹۸ بے شک اکثروں پر فرد جرم لگ گیا ہے لہذا وہ ایمان نہ لاویں گے۔اِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ وَلَوْ جَاءَ تُهُمُ كَلُّ آيَةٍ حَتَّى يَرَوُا الْعَذَاب الأليم - 99 ) بے شک جن پر فرد جرم لگ چکا وہ ایمان نہ لاویں گے۔اگر چہ وہ ایک نشان