اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 577 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 577

۵۸۳ مذکورہ معنوں والی بدعت تو ہر ایک ہی بدعت سیئہ ہے مگر جس سے صریح طور پر سنت نبوی کا ترک لازم آتا ہو وہ تو حد درجہ کی سئیہ ہوتی ہے۔۶۵ ۳- بابت رہن استفتاء۔رہن کا محض وجود جائز ہے یا حرام۔ایسی چیز کا رہن جوروزمرہ کے استعمال میں آنے والی ہو یا جس سے ماہوار۔ششماہی یا سالانہ فائدہ ہوتا ہے جائز ہے یا حرام۔جبکہ ایسی چیزوں کی حفاظت یا اپنے نفع کے حاصل کرنے کے کوشش اور مالیہ وغیرہ کا ادا کرنا مرتہن کے سپرد ہے۔قرآن مجید، حدیث و آثار سے ثبوت پیش ہو۔جولوگ رہن کو حرام قرار دیتے ہیں وہ قرآن مجید یا حدیث سے کیا ثبوت پیش کرتے ہیں اور جواز کے قائل ان کی کیا تعبیر و تاویل کرتے ہیں۔ائمہ اربعہ میں سے کوئی بھی جواز رہن کا قائل ہے یا چاروں رہن کی حرمت کے قائل ہیں اور ان کی کیا دلیل ہے۔فتوی: رہن جائز ہے اور اس کے جواز میں کسی امام یا فرقہ اسلامیہ کا اختلاف نہیں۔قرآن کریم میں ہے فَرِهنَّ مَّقْبُوضَ۔۔۔۔اور اس کے ہوتے ہوئے کسی مسلمان کے لئے قطعاً کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔نمبر ۲ کا جواز بھی اسی آیت کریمہ سے ثابت ہے کیونکہ اس میں نہ تو کسی خاص چیز کے رہن کا ارشاد ہے کہ اس کے سوائے باقی چیزوں کے رہن کا جواز ثابت نہ ہو۔اور نہ ہی عام چیزوں سے کس چیز کا استثناء کیا گیا ہے۔بلکہ اس کو ایسا مطلق رکھا ہے جو کہ کل اشیاء پر شامل ہے۔اور ایسی چیزوں کے رہن کا بکثرت احادیث اور احادیث اور آثار میں ذکر ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب دنیا سے سفر فرمایا تو آپ کی زرہ گر تھی۔نیز حدیث میں آیا ہے۔الظهر يركب بنفقته والضرع تُحلَّبُ بنفقتها - ۲۶ (سواری کے جانور پر اس کے نفقہ کے بدلہ میں سواری کی جاسکتی ہے اور لوبیری کا دودھ پیا جا سکتا ہے اس کے نفقہ کے بدلہ میں ) اور جس طرح نفس رہن کے جواز میں کسی مسلمان کو اختلاف نہیں۔اسی طرح ایسی اشیاء کے رہن میں بھی کسی مسلمان کو اختلاف نہیں۔ہاں اس میں اختلاف ہے کہ ایسی اشیاء کے رکھنے کی صورت میں مرتبہن ان مرہونہ اشیاء سے نفع اٹھا سکتا ہے یا نہ۔جس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر ان اشیاء پر مرتہن کو کچھ خرچ کرنا نہیں پڑتا بلکہ جو کچھ خرچ ہوتا ہے۔وہ راہن کے ذمہ ہے یا وہ چیز ہی ایسی ہے کہ وہ نفع دیتی ہے مگر اس پر نہ کوئی خرچ ہوتا ہے اور نہ ہی نفع اٹھانے کے لئے محنت اور مشقت ہوتی ہے تو پھر مرتہن کے لئے اس سے نفع اٹھانا حرام صا در ممنوع