اصحاب احمد (جلد 5) — Page 578
۵۸۴ ہے کیونکہ اس صورت میں وہ نفع اگر مرتہن لے گا تو محض قرض دینے کی وجہ سے لے گا اور قرض سے نفع ہونا سود ہے اور حرام ہے۔صاف حدیث میں آیا ہے کہ كُلّ قرضِ جَرَّ نفعًا فھو رہی۔۱۷ ( جو قرض بھی نفع دے وہ سود ہے ) اور اگر اس پر خرچ ہوتا ہے اور بذمہ مرتہن ہے تو اس میں ہمارا مذہب یہی ہے کہ مرتہن کو رہن سے نفع اٹھانا جائز اور حلال ہے۔اور یہ اس نفقہ کی وجہ سے ہے جو مرتہن کو خرچ کرنا پڑا۔جیسا کہ صاف حدیث میں آیا ہے الظهریر کب بنفقته - مگر فقہ حنفیہ والے اس صورت میں بھی مرتہن کے لئے نفع اٹھانا منع قرار دیتے ہیں۔اور دلیل کے طور پر وہی حدیث پیش کرتے ہیں کہ کل قرض جرنفا۔۔۔اور یہ نہیں سوچتے کہ یہ نفع قرض کا نہیں بلکہ نفقہ کے عوض ہے۔جیسا کہ حدیث میں اور کے الفاظ کے ساتھ خود ظاہر فرما دیا ہے۔-۳- قرض کو نہ کوئی حرام قرار دیتا ہے اور نہ ہی اس کی کوئی دلیل ہے۔ائمہ اربعہ اور دوسرے سب علماء اسلام رہن کے جواز پر متفق ہیں کوئی بھی اس کو حرام نہیں کہہ سکتا۔-✓ (۷-۱-۳۳) (بالفاظ دیگر یہی فتویٰ اس استفتاء کے جواب میں دیا ہے کہ اراضی کا گروی رکھنا اور خود یا کسی مزارع کے ذریعہ کاشت کرا کے اس کا مفاد اٹھانا جائز ہے یا نہیں) - سیونگ بنگ کے سود پر زکوۃ اور زیور کی زکوۃ کے متعلق استفتاء۔ا۔سیونگ بنگ میں جمع شدہ روپیہ پر زکوۃ واجب ہے یا کہ نہیں۔جبکہ اس کی تعداد سینکڑوں تک ہے اور جبکہ اس کا سودا شاعت اسلام میں دیا جاتا ہو۔۲۔ایک شخص کے پاس کچھ زیور اور روپیہ سیونگ بنگ میں جمع شدہ ہے۔ہر دو قابل زکوۃ ہیں لیکن زیور اور اس روپیہ کی مالیت واجب الادا مہر کی مالیت سے کم ہے۔اور مہر بھی ایک ضروری قرض ہے۔اندریں حالات اس زیور اور روپیہ پر ز کوۃ واجب ہے یا نہیں؟ فتوی: ۱۔جور و پیر سیونگ بنگ میں جمع ہے۔اور اس کی تعدا د نصاب زکوۃ یا اس سے زیادہ ہے تو اس پر زکوۃ فرض ہے اور سود کا روپیہ اشاعت اسلام میں دینے سے اس مال پر سے زکوۃ ساقط نہیں ہوتی۔کیونکہ سود تو مال حرام ہے۔اس واسطے وہ ملکیت نہیں ہوسکتا اور مسلمان اس کو خود استعمال نہیں کر سکتا۔اس واسطے اس کو اشاعت اسلام میں دے دیا۔زکوۃ تو اپنے مال پر ہوگی جو اصل مال ہے۔اس واسطے جو مال سیونگ بنگ میں جمع ہو اس پر زکوۃ ہوگی۔بشرطیکہ وہ بقدر نصاب ہو۔۲۔قرضہ مہر ہو۔زیور اور مال کی مالیت پر حاوی ہے۔یہ عذر بھی جائز نہیں اور اگر وہ روپیہ ہرادا کرنے کی