اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 576 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 576

۵۸۲ اگر وہ دوسری چیز ظاہر ہو تو اس کو اکثر اوقات نہیں ذکر فرماتا۔مثلاً فرمایا اَيُّهَا الَّذِينَ امنوا اذا قمتم الى الصلواة فاغسلوا وجوهكم ۶۳ نماز کے لئے وضو کرنا ہے پر کب ؟ جب وضو نہ ہو یا یوں کہو کہ جب پیشاب اور پاخانہ کیا۔مگر یہ ظاہر تھا۔اس لئے ذکر نہیں کیا۔اسی طرح مرض ، سفر، عدم وجدان ماء کے وقت تیم کرنا پر کب ؟ جب وضو کرنے یا نہانے کی ضرورت ہو۔پس پہلے دونوں سبوں کو بغیر ان کے ذکر کر دیا۔اور فرمایا کہ وان كنتم مرضی او علی سفر۔۔۔فتیممُوا۔اور تیرے سبب کے ساتھ ان دونوں کا محض اس لئے اظہار فرما دیا تا کہ یہ سمجھ آ جائے کہ وضو اور غسل جنابت ہر دو کی جگہ ان اسباب کے وقت ہوسکتا ہے تو فرمایا۔اوجاء احد منكم من الغائط او لامستم النّساء فلم تجدو اماءً فتيمموا۔پس مطلب یوں ہو گیا کہ اگر تم کو وضو یا غسل جنابت کی ضرورت ہے اور تم بیمار ہو تو تیم کر لو اور اگر تم کو وضو کی یا غسل جنابت کی ضرورت ہے اور تم پانی نہیں پاتے تو تیم کرلو۔پس اب اس آیت کے معنے سوائے کسی ہیر پھیر اور اشکال کے صاف ہو گئے۔ہاں ان لوگوں کے لئے ضرور مشکل ہے کہ جو بیمار کے لئے یہ قید لگاتے ہیں کہ پانی کا استعمال اس کو ضر ر دیتا ہو وغیرہ وغیرہ لیکن کلام الہی میں ان قیود کا کوئی نام ونشان نہیں۔اسی طرح ان کے لئے بھی مشکل ہے جو مسافر کے لئے عدم وجدان مآء مشروط رکھتے ہیں مگر شریعت غراء کے اصول اور قرآن مجید کی عبارت اس سے پاک ہے۔۶۴ - بسم اللہ کی بجائے ۷۸۶ لکھنا استفتاء خطوط پر جو بجائے بسم اللہ الخ کے ۷۸۶ عد دلکھ دیتے ہیں۔کیا اس سے اس ارشاد کی تعمیل ہو جاتی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسم اللہ الخ کے ساتھ شروع کرنے کی نسبت فرمایا ہے یا کہ ان کا لکھنا ایک بدعت ہے۔الجواب ۷۸۶ کے اعداد کا خطوط کے شروع میں اس خیال سے لکھنا کہ اس سے ارشاد نبوی کی تعمیل ہوگی جو کہ بسم اللہ کے ساتھ شروع کرنے کی نسبت ہے یقیناً بدعت ہے۔کیونکہ بدعت وہی ہوتی ہے کہ اس کو دینی امر سمجھ کر کیا جائے حالانکہ وہ دین سے نہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضور کے صحابہ سے ان اعداد کا شروع میں لکھنا ہرگز ثابت نہیں ہے اور پھر یہ ایسی بری بدعت ہے کہ اس سے اصل سنت نبوی کا جو کہ سم اللہ کا لکھنا ہے ترک لازم آتا ہے۔