اصحاب احمد (جلد 5) — Page 480
۴۸۵ حضرت مولانا مرحوم جسمانی و روحانی خصائل و فضائل اور ظاہری و باطنی محاسن و محامد کے اعتبار سے اپنے امثال واقران میں ممتاز درجہ رکھتے تھے اور حق تو یہ ہے کہ ہمارے سارے اساتذہ کرام ایسے نگینے تھے جن کو کسی ماہر کاریگر نے بڑی چابکدستی سے مختلف انگشتریوں میں جڑ دیا ہو اور ہر نگینہ اپنی تراش خراش ، وضع قطع اور آب و تاب کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ہو۔حضرت مولانا مرحوم کے درس و تدریس میں صرف ظاہری اور کسی علوم کا خوان نعما ہی نہیں بچھتا تھا بلکہ روحانی فیوض کے خزانے بھی لٹائے جاتے تھے اور آپ سے نسبت تلمذ رکھنے والے منطق و فلسفہ وغیرہ مروجہ علوم بقیہ حاشیہ: - آپ کے آباء میں سے حضرت سید عبداللہ صاحب جو حضرت سید عبدالقادر جیلانی کی اولاد سے ہیں اس ملک میں آئے اور حجرہ شاہ مقیم جو ایک مشہور جگہ ہے میں سکونت پذیر ہوئے آپ کے دو بیٹے تھے۔بڑے بیٹے سیدابوالحسن صاحب جن کا مزار پشاور میں ہے اور چھوٹے فرزند سید شاہ فاضل جن کا مزار محلہ خانیار شہر سرینگر میں حضرت مسیح ناصری کی قبر کے قرب وجوار میں واقع ہے۔سید ابوالحسن صاحب کے فرزند اکبر کا نام زین العابدین ہے۔آپ کا مزار ضلع ہزارہ میں ہے۔فرزند اصغر شاہ محمد غوث ہیں جو ہمقام لا ہور مدفون ہیں۔آپ کے والد سید محمد حسن صاحب انہی سید زین العابدین صاحب کے پوتے ہیں آپ تیرہ سال کی عمر میں تحصیل علم کی خاطر عازم سفر ہوئے اور یکے بعد دیگرے تین اساتذہ سے کہ تینوں کا نام ”عبدالکریم ، تھا کتب صرف ونحو کا درس شروع کیا۔بعد ازاں پشاور میں مولوی محمد ایوب صاحب سے شرف تلمذ حاصل کیا پھر لاہور آکر مولوی غلام احمد صاحب اول مدرس مدرسہ نعمانیہ سے زانوئے ادب تہ کیا اور علوم منطقیہ وفلسفیہ میں خوب مہارت پیدا کی۔ساتھ ہی ساتھ مفتی سلیم اللہ صاحب لاہوری سے طب کا شغل بھی رہا۔بعدۂ دیو بند میں مولوی محمد حسن صاحب دیو بندی سے علوم حدیث کی تعلیم پائی۔تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد کچھ عرصہ سہارنپور میں مدرسہ مظاہر العلوم میں مدرس رہے اور کچھ مدت پشاور مشن کالج میں عربی پروفیسر رہے۔ازاں بعد اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ مہدی دوراں حضرت مسیح موعود کے ایماء سے ملازمت کو ترک کر کے دارالامان میں رہائش اختیار کی۔اور آپ کی صحبت میں رہ کر حقیقی علم سے یہاں تک استفادہ کیا کہ آج آپ علاوہ دیگر فرائض سلسلہ کی انجام دہی کے مفتی سلسلہ احمدیہ کے عظیم الشان عہدہ پر فائز ہیں۔“ ( دسمبر ۱۹۳۰ ء صفحه ۷۴ ) (نوٹ۔رسالہ جامعہ احمدیہ بابت دسمبر ۱۹۳۰ء میں آپ کی تصویر مع عملہ کا لج بھی موجود ہے)