اصحاب احمد (جلد 5) — Page 479
۴۸۴ استاذی المکرم حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب مرحوم و مغفور رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان بزرگ و بلند پایہ اساتذہ میں سے تھے جن کے بارہ میں بجا طور پر کہا گیا ہے کہ ان کا مقام ومرتبہ جسمانی آباء سے بھی اونچا ہوتا ہے کیونکہ ظاہری باپ تو ایک روح کو آسمان سے زمین پر لانے کا موجب ہوتا ہے مگر ایک استاد کامل اپنی تعلیم و تربیت اور فیض صحبت سے اسے پھر آسمان پر پہنچا دیتا ہے۔بقیہ حاشیہ: - (۲۰) حیات طیبہ ( تالیف اخویم شیخ عبد القادر صاحب سابق سوداگرمل ) بابت مباحثه مد (۲۱) تاریخ احمدیت حصہ سوم ( تالیف اخویم مولوی دوست محمد صاحب شاہد ) بابت مباحثه مد (۲۲) حضرت میر ناصر نواب صاحب مولوی صاحب، میر قاسم علی صاحب،حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی قادیان سے ماسٹر علی محمد صاحب بی۔اے بی ٹی و ڈاکٹر ) عبدالرحمن صاحب نو مسلم ( بعدہ المعروف کامٹی۔حال مہاجر کراچی ) کی شادی میں شرکت کے لئے سیالکوٹ تشریف لے گئے۔جو حضرت مولوی فیض الدین صاحب کے ہاں ہورہی تھی۔مولوی صاحب و میر قاسم علی صاحب حضور ایدہ اللہ تعالی کے حسب الحکم تقریروں کے لئے دو تین روز کے لئے ٹھہر گئے۔(الفضل ۱۵-۹-۱۵،۱۲-۹-۱۴- زمیر مدینه امیخ) (۲۳) حضور کے سفر لا ہور کے تعلق میں مرقوم ہے۔سیدنا خلیفتہ اسیح الثانی مع اہل وعیال ۳ مئی کو عصر اور مغرب کے درمیان یہاں سے روانہ ہوئے۔حضور مسجد مبارک کی سیڑھیوں سے مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور مولوی عبدالرحمن صاحب جٹ کے سہارے سے اتر کر پہلے پالکی میں سوار ہوئے۔بیرون قصبہ جا کر تکلیف کی وجہ سے حضرت نواب صاحب کی بگھی میں لیٹ گئے ( الفضل ۱۸-۸-۷۔زمیر مدینتہ اسیخ) (۲۴) سیرة احمد ( مرتبہ مکرم مولوی قدرت اللہ صاحب سنوری ) صفحہ ۲۸۷۔(۲۵) هدى للمتقین کی تفسیر (رسالہ جامعہ احمدیہ بابت جولائی و اکتوبر ۱۹۳۰ء (صفحات ۲۵ /۱، ۶،۴۸ تا ۸ ) (۲۶، ۲۷) فتاوی ( تشحذ الا ذبان مئی ۱۹۱۹ء صفحہ ۳۶، ۳۷ و الفضل ۴۳-۱۱-۲- مؤخر الذکر کا ذکر الفضل ۱۰-۱۱-۴۳ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے مضمون میں بھی ہے) (۲۸) افسر مساجد کی حیثیت سے مسجد اقصیٰ کے لئے سائبان کی فراہمی کے لئے احباب کو تحریک کرنا (الفضل ۲۰-۵-۱۳- صفحه ۱۰) (۲۹) رسالہ جامعہ احمدیہ میں جائنٹ ایڈیٹر مولانا محمد سلیم اللہ صاحب ( حال مبلغ مقیم کلکتہ نے سٹاف جامعہ احمدیہ کے زیر عنوان آپ کے متعلق تحریر کیا تھا جو آپ ہی سے دریافت کر کے لکھا ہوگا )