اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 481 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 481

۴۸۶ کے علاوہ قرآنی حقائق و معارف سے بھی اپنا دامن مراد بھر لیا کرتے تھے اور چونکہ آپ نے نبی کوقت کی صحبت اٹھائی تھی اور آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جلیل القدر صحابی تھے اس لئے آپ کی ہمنشینی جلاء العیون اور صفاء القلوب کا موجب ہوتی تھی۔حضرت مولانا مرحوم کو اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی بالغ نظری اور فہم رسا سے نوازا تھا۔آپ اکثر بیان فرماتے تھے کہ دارالعلوم دیو بند کے زمانہ طالب علمی ہی میں آپ کے اساتذہ آپ کی اس بے نظیر خوبی کے قائل تھے ان کا کہنا تھا کہ سرور شاہ کا دماغ غلط نتائج کی طرف جاتا ہی نہیں۔چنانچہ جب بھی کوئی الجھا ہوا مسئلہ درپیش ہوتا تو تبصرہ کے لئے آپ کے سپرد کر دیا جاتا اور پھر آپ اس کا جو حل پیش کرتے اسے قبول کر لیا جاتا۔آپ کا سلوک اپنے تلامذہ کے ساتھ بہت ہی مشفقانہ اور مربیانہ ہوتا تھا۔ہم لوگ جامعہ احمدیہ کے درسی اوقات کے علاوہ اکثر آپ کے در دولت پر حاضر ہو کر آپ سے پڑھا کرتے تھے اور ہماری تعداد بالعموم ہیں پچیس نفر تک ہوتی تھی۔چونکہ حضرت مولانا مرحوم کو چائے کا شوق تھا اس لئے آپ چائے نوش فرماتے تو بڑی محبت اور شفقت کے ساتھ ہمیں بھی سبز چائے پلایا کرتے اور اس پر کافی خرچ اٹھنے کے باوجود آپ دلی راحت محسوس فرماتے تھے اور بالکل یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ایک شفیق باپ اپنے بچوں کے ساتھ بے تکلف خوردونوش میں مصروف ہو۔مزید برآں ساتھ ہی ساتھ منطق و فلسفہ کی گتھیاں بھی سلجھائی جاتیں اور درس و تدریس کی ایسی خوشگوار فضاء قائم ہو جاتی کہ روحوں میں بالیدگی آجاتی۔ایک دفعہ حضرت مولانا مرحوم شیخ عبدالرشید صاحب مرحوم بٹالوی کی دعوت پر بٹالہ تشریف لے گئے وہاں کوئی جماعتی کام تھا۔نا چیز راقم کو بھی ہمرکابی کا شرف بخشا۔دن بھر درس تدریس اور وعظ ونصیحت کا سلسلہ جاری رہا اور اسی روز شام کو واپس آگئے۔جب ریلوے اسٹیشن قادیان سے باہر نکلے تو آپ نے بڑی شفقت اور محبت سے مجھے ایک روپیہ عنایت فرمایا پہلے تو میں رکا لیکن پھر تبرک سمجھ کر لے لیا جو عرصہ تک میرے پاس محفوظ رہا لیکن بعد میں کہیں ادھر اُدھر ہو گیا غالبا دوسری نقدی کے ساتھ مل کر خرچ میں آ گیا۔جس زمانہ میں مولانا مرحوم جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے تنظیمی اعتبار سے کبھی کبھارطلباء کو کچھ شکایت بھی پیدا ہوئی لیکن جو نہی معاملہ حضرت مولانا مرحوم کے نوٹس میں لایا گیا۔آپ نے فوراتدارک فرمایا اور تلامذہ کی دلجوئی فرمائی۔اور یہ صرف اس لئے کہ آپ کے تلامذہ کو بخوبی یہ احساس تھا کہ آپ اس اہم درس گاہ کے ناظم اعلیٰ ہی نہیں بلکہ ایک عالم باعمل میچ پاک کے رفیق خلیق اور نمونے کے بزرگ تھے۔جنہیں ظاہر داری کے بجائے باطن آرائی کا زیادہ خیال رہتا ہے اور یہ چیز ان کی تعظیم و تکریم کو چار چاند لگادیتی ہے اور ان کی اطاعت وفر ما نبرداری کی بنیاد عام دنیا داروں کی طرح منافقت پر نہیں بلکہ صدق دلی پر مبنی ہوتی ہے۔