اصحاب احمد (جلد 5) — Page 351
۳۵۶ -۴- از محترم شیخ محمد دین صاحب پنشنر مختار عام صدر انجمن احمد یہ مقیم ربوہ۔مجھے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے ساتھ دفتر بہشتی مقبرہ میں بہت عرصہ کام کرنے کا موقع ملا ہے۔آپ نرم مزاج، حلیم الطبع تھے۔لیکن صیغہ بہشتی مقبرہ میں صدر انجمن احمدیہ کے واجبات وصول کرنے میں بعض دفعہ بختی اختیار کرتے تھے۔تانرمی کی وجہ سے انجمن کا نقصان نہ ہو۔آپ اپنے ماتحتوں کے ساتھ گہری ہمدردی رکھنے والے بزرگ تھے۔داڑھی سرخ مہندی سے رنگتے تھے۔نماز باجماعت کی بہت با قاعدگی سے پابندی کرتے۔صف اول میں بیٹھتے اور ٹھیک حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی پشت کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے والہانہ محبت تھی اور اچھی صحت رکھتے تھے۔ایک دفعہ یہ واقعہ سنایا کہ حضت خلیفہ اصبح الاول کا زمانہ تھا اور حضرت صاحبزادہ مرزا حمود احمد صاحب (خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ) مجھ سے پڑھتے تھے لیکن میری نگاہوں نے بھانپ لیا تھا کہ آپ ایک دن اعلیٰ منصب پر سرفراز ہونے والے ہیں۔تو میں نے آپ سے وعدہ لیا کہ آپ میرا خاص خیال رکھیں گے۔ایک دفعہ آپ نے رویا سنایا جو کافی لمبا تھا۔لیکن اس کا تھوڑا سا حصہ مجھے یاد ہے۔اور وہ یہ تھا کہ جب سیاست کی دیوار گر جائے گی تو اس وقت احمدیت کا غلبہ ہو جائے گا وغیرہ وغیرہ۔ایک دفعہ آپ نے بحیثیت مفتی سلسلہ احمدیہ ایک صاحب کی درخواست پر درخواست دہندہ کے حق میں فتویٰ دے دیا۔وہ فتوی ایک دوسرے کے خلاف پڑتا تھا۔فریق اول کی تحریر پر رشتہ ہوا تھا۔اور وہ تحریر قریباً دو تین سال پہلے کی فریق ثانی کے پاس محفوظ تھی۔فریق ثانی نے مفتی صاحب کا پہلا فتویٰ اور فریق اول کی اصل تحریر پیش کر کے فتویٰ چاہا۔تو حضرت مولوی صاحب نے پہلا فتویٰ منسوخ کر کے فریق ثانی کے حق میں فتویٰ دے دیا۔اس پر فریق اول کے ایک رشتہ دار نے حضرت مولوی صاحب کو پھسلانے کے غرض سے پندرہ روپے تحفہ دینا چاہا تو مولوی صاحب نے روپے پھینک دئے اور فرمایا تم مجھے رشوت دینا چاہتے ہو؟ لے جاؤ۔میں نے جو صحیح سمجھا فتویٰ دے دیا ہے۔حضرت مولوی صاحب ایک دفعہ جبکہ افسر جلسہ سالانہ بھی تھے اور میں آپ کے ساتھ کام کرتا تھا جب جلسہ سالانہ کے اختتام کا آخری دن تھا۔اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی آخری تقریر کے بعد دعا کے بعد جلسہ برخاست ہونا تھا تو با وجود سخت مصروفیت کے وقت نکال کر اور مجھے ساتھ لے کر اس اجتماعی دعا میں