اصحاب احمد (جلد 5) — Page 300
۳۰۴ از اخویم عبداللطیف صاحب ظہور مدرس تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان آج کیوں مغموم ہے ہر ایک گھر آج کیوں گلشن ہوا ویران سا کل جو تھا موجود وہ روپوش ہے زندگی اور موت کا ہے بھید کیا پھول سے رخصت ہوئی بوئے وفا تو مجسم عشق کی تصویر تھا تو کہ تھا اک معدنِ علم و ہنر تو کہ تھا ہر دم سرور قادیاں تیری قربانی ہے دنیا میں مثال مسیح وقت کی جلوہ گری کھینچ کر لایا تھا تجھ کو کس کا پیار قادیاں آیا تو بس یہ قادیاں یا الہی ! کھول دے جنت کا در بخشدے رحمت سے ہو اپنی سکے مجھ سے جہاں وہ آج کیوں زخمی ہوئے قلب و جگر پھر رہا ہر ایک ہے حیران سا ہم کو تیری موت کا افسوس ہے لوٹ کر آیا نہیں جو بھی گیا ہم سے کیا رخصت ہوا درد آشنا تو سراپا حلم کی شمشیر تھا تو کہ تھا ہر ایک سے شیر وشکر تو کہ تھا اک احمدیت کا نشاں عشق ہے تیرا جہاں میں لازوال بخش دی تجھ کو خدا نے سروری دشمنوں پر ہے حقیقت آشکار بن گیا تیرے لئے دار الاماں آرہا تیری طرف ہے یہ بشر وہ مقام ہمکلام (الفضل ۴۷-۶-۲۳)